تمل ناڈو حکومت نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف درج تمام مقدمات واپس لے گی۔ یہ فیصلہ وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے کی ہدایت پر لیا گیا ہے۔ اسکولی تعلیم کے وزیر راج موہن نے اتوار (2 اگست) کو یہ اعلان کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’حکومت نے نیٹ مخالف مظاہروں کے سلسلے میں طلبہ کے خلاف درج تمام مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ مقدمات واپس لینے کے عمل اور اس فیصلے کے دائرے میں آنے والے کیسز کے بارے میں جلد ہی مزید معلومات فراہم کی جائیں گی۔‘‘மாண்புமிகு தமிழ்நாடு முதலமைச்சர் அவர்களின் உத்தரவின்படி, நீட் தேர்வை எதிர்த்துப் போராடிய மாணவர்கள் மீது பதிவுசெய்யப்பட்ட அனைத்து வழக்குகளும் ரத்து செய்யப்படுகின்றன. இதர விவரங்கள் விரைவில் வெளியிடப்படும். மாண்புமிகு தமிழ்நாடு முதலமைச்சர் அவர்களுக்கு மனமார்ந்த நன்றிAs per the…— Rajmohan (@imrajmohan) August 2, 2026واضح رہے کہ یہ اعلان ملک کے کئی حصوں میں نیٹ کو لے کر بڑے پیمانے پر ہوئے احتجاجی مظاہروں کے کچھ دنوں بعد کیا گیا ہے، جس میں طلبہ اور نوجوان تنظیموں نے امتحانی نظام پر تشویش کا اظہار کیا اور تبدیلی کا مطالبہ کیا۔ تمل ناڈو میں بھی ریلیوں، اچانک احتجاجی مظاہروں (فلیش پروٹیسٹ) اور دیگر طرح کی تحریکوں سمیت کئی مظاہرے ہوئے۔ ریاست میں کئی جگہوں پر مختلف طلبہ تنظیموں اور سیاسی گروہوں نے مظاہرے منظم کیے۔ چنئی میں، مظاہرین نے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (سی پی آئی) کے ریاستی ہیڈ کوارٹر ’بالن الم‘ پر مسلسل احتجاجی مظاہرہ کیا۔ریاست کے کچھ حصوں سے اچانک احتجاجی مظاہروں کی بھی خبریں آئی تھیں۔ کچھ مقامات پر مظاہرین کی جانب سے سڑک بلاک کیے جانے کے بعد پولیس کو مداخلت کرنی پڑی۔ ایسے مظاہروں کے دوران کئی طلبہ کو حراست میں لیا گیا، جبکہ بعض احتجاجی واقعات کے سلسلے میں مقدمات بھی درج کیے گئے۔ ریاستی حکومت کے اس نئے اعلان سے نیٹ مخالف مظاہروں سے متعلق مجرمانہ کارروائیوں کو واپس لینے کا راستہ صاف ہونے کی امید ہے۔ باضابطہ طور پر مقدمات واپس لینے کا عمل شروع کرنے سے پہلے افسران کی جانب سے پورے تمل ناڈو کے پولیس اسٹیشنوں میں درج کیسز کی جانچ کیے جانے کا امکان ہے۔