اسرائیل کو میزائل حملوں سے بچانے کے لیے بحری وسائل موجود نہیں، امریکی جنرل

Wait 5 sec.

واشنگٹن (02 اگست 2026): ایران کی بحری ناکہ بندی نے اسرائیل کو میزائلوں سے محفوظ رکھنا امریکی فوج کے لیے مشکل بنا دیا ہے۔یورپ میں تعینات امریکا کے سینئر ترین جنرل نے پینٹاگون کو خبردار کیا ہے کہ ان کے پاس اسرائیل کو بیلسٹک میزائل حملوں سے بچانے کے لیے درکار بحری وسائل موجود نہیں ہیں۔امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی فوج کی یورپیئن کمانڈ کے سربراہ جنرل الیکسس گریگوری گرینکیوچ نے ذاتی حیثیت میں پینٹاگون کو آگاہ کیا ہے کہ اگر انھیں مزید ایک ڈسٹرائر بحری جہاز فراہم نہ کیا گیا تو امریکا اور اسرائیل کے دفاع میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑے گا۔امریکی صدر ٹرمپ کا ایران پر حملہ منسوخ کرنے کا اعلانصدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی کا حکم دیے جانے کی وجہ سے امریکی بحریہ اس وقت دباؤ کا شکار ہے، مشرقی بحیرۂ روم میں تعینات امریکی بحری ڈسٹرائرز کئی برسوں سے اسرائیل کا دفاع کر رہے ہیں۔اسرائیل کے دفاع میں امریکی فوج کی یورپیئن کمانڈ مرکزی حیثیت رکھتی ہے کیوں کہ وہ بحیرۂ روم میں فوجی آپریشنز کی نگرانی کرتی ہے، اسی کے ساتھ اس کے دستوں کو نیٹو اتحاد کے زیرِ تحفظ علاقوں میں ممکنہ روسی مداخلت کے لیے بھی تیار رہنا ہوتا ہے۔ایک امریکی اہلکار کے مطابق جمعہ کو 2 ڈسٹرائرز بحیرہ روم جب کہ 3 ڈسٹرائرز روٹا میں تھے۔