بہار پولیس کا ایک عجیب و غریب کارنامہ سامنے آیا ہے۔ کشن گنج کے رہنے والے محمد صداقت، جن کا دعویٰ ہے کہ وہ گزشتہ 4 ماہ سے روس میں مقیم ہیں، کے خلاف بھی پولیس نے نیٹ تحریک سے متعلق مقدمہ درج کر دیا ہے۔ یہ ایف آئی آر کشن گنج کے بہادر گنج میں ہونے والے احتجاج سے جڑا ہوا ہے۔محمد صداقت ضلع کشن گنج کے بہادر گنج کے رہنے والے ہیں اور انہوں نے روس سے ہی سوشل میڈیا پر اپنی ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے اپنے خلاف درج مقدمے پر سوال اٹھایا ہے۔ محمد صداقت کا دعویٰ ہے کہ نیٹ پرچہ لیک کے خلاف بہادر گنج میں ہونے والے احتجاج کے دوران وہ موقع پر موجود ہی نہیں تھے، اس کے باوجود انہیں نامزد ملزم بنا دیا گیا۔ محمد صداقت نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ واقعے کے وقت وہ بیرون ملک تھے اور احتجاج میں ان کا کوئی کردار نہیں تھا۔ انہوں نے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے ایف آئی آر کا ازسر نو جائزہ لینے کی اپیل کی ہے۔اس معاملے پر جب قائم مقام ایس پی ہری موہن شکلا سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ انہیں اس معاملے کی اطلاع مل گئی ہے۔ عدالت کے حکم پر عمل کیا جا رہا ہے اور اسی کے مطابق مقدمہ ختم کر دیا جائے گا۔ اے آئی ایم آئی ایم کے رکن اسمبلی توصیف عالم نے اس بارے میں کہا کہ ’’انتظامیہ کو اس کا جواب دینا چاہیے۔ باہر کے لوگ واقعہ انجام دے کر چلے گئے، لیکن مقامی لوگوں کے نام مقدمے میں شامل کر دیے گئے۔ یہ سراسر جھوٹی ایف آئی آر ہے۔‘‘روس میں مقیم بہادر گنج کے نوجوان کے خلاف درج ایف آئی آر پر توصیف عالم نے کہا کہ یہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ انہوں نے اس کی سخت مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح بیرون ملک رہنے والے افراد کے نام ایف آئی آر میں شامل ہو جانا انتظامیہ کے طریقۂ کار پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ اس معاملے پر بہادر گنج ضلع پریشد کے رکن عمران عالم نے بھی افسوس ظاہر کیا۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں بہادر گنج میں پیش آنے والے ہنگامے سے متعلق پولیس نے لاپروائی کا مظاہرہ کیا۔ اس میں میرے علاقے کے ایسے افراد کے نام بھی شامل کر دیے گئے جو اس وقت کشن گنج میں موجود ہی نہیں تھے۔