غزہ (31 جولائی 2026): امن بورڈ اور حماس میں ہونے والے غزہ امن معاہدے میں پہلے ہتھیار کون ڈالے گا اس کو طے کر لیا گیا ہے۔غزہ پیس آف بورڈ نے حماس کو غیر مسلح ہونے پر راضی کر لیا ہے۔ تاہم اس معاہدے کے مطابق پہلے ہتھیار کون ڈالے گا، اس حوالے سے چار صفحات پر مشتمل ایک روڈ میپ سامنے آیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق معاہدے کی دستاویز میں لکھا ہے کہ حماس مرحلہ وار غیر مسلح، اسرائیلی افواج کا غزہ سے بتدریج انخلا اور نئی فلسطینی عبوری انتظامیہ کے قیام کو ایک دوسرے سے مشروط کیا گیا ہے۔اس معاہدے کے مطابق ہر مرحلہ اس وقت تک مکمل نہیں ہوگا جب تک دوسرا فریق اپنی متعلقہ ذمہ داریاں پوری نہیں کرتا۔امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس پورے اس اصول کے تحت تیار کیا گیا ہے کہ کسی بھی فریق پر اندھا اعتماد نہیں کیا جائے گا اور ہر پیش رفت کی باقاعدہ جانچ پڑتال ہوگی۔دستاویز کے مطابق ابتدا میں غزہ میں سرگرم چھوٹے مسلح گروپوں کو غیر مسلح کیا جائے گا جس کے بعد حماس اپنے فوجی ڈھانچے کو ختم کرنے کا عمل شروع کرے گی، جس میں سرنگوں کا نیٹ ورک، اسلحہ کے ذخائر اور ہتھیار بنانے کی تنصیبات شامل ہیں۔معاہدے کے روڈ میپ میں یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ تمام مراحل کی تکمیل کے بعد غزہ میں بننے والی نئی فلسطینی عبوری اتھارٹی کو اسلحے پر مکمل اختیار حاصل ہوگا جبکہ ایک بین الاقوامی استحکام فورس بھی عبوری دور میں امن و امان برقرار رکھنے میں معاونت کرے گی۔غزہ کو غیر مسلح کرنے کا عمل مکمل ہوتے ہی اسرائیلی فوج واپس چلی جائے گی، ٹرمپ