کانپور-لکھنؤ ایکسپریس وے کو شروع ہوئے ابھی چند ہی روز ہوئے ہیں، اور جگہ جگہ ٹوٹ پھوٹ کی خبریں سامنے آنے لگی ہیں۔ کچھ دنوں پہلے ہی اس ایکسپریس وے پر ایک جگہ مرمت کا کام انجام دیا گیا تھا، اور اب 17 دنوں کے اندر ایک بار پھر مرمت کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ 4,200 کروڑ روپے کی لاگت سے بنائے گئے اس ایکسپریس وے کا 2 ہفتے پہلے ہی افتتاح ہوا تھا۔ جمعرات کو کانپور-لکھنؤ ایکسپریس وے پر مرمت کا ایک اور دور چلا، جس میں سڑک کے خراب حصے کو کاٹ کر دوبارہ بنایا گیا۔ متاثرہ حصہ پر مرمت کا کام کرنے کے لیے کئی افسران اور سڑک بنانے والی مشینیں تعینات کی گئیں۔ خراب حصے کو ہٹا دیا گیا اور سڑک کی سطح کو دوبارہ بنایا گیا تاکہ اس پر گاڑیاں آسانی سے چل سکیں۔The Lucknow-Kanpur Expressway which was inaugurated by two cabinet ministers and a chief minister on July 13. Just been a fortnight and this is the condition of the expressway built at a cost of ₹4700 crores. This expressway has sustained damage at multiple stretches since its… pic.twitter.com/a60CFfscBh— Piyush Rai (@Benarasiyaa) July 30, 2026مرمت کا یہ کام کانپور سے لکھنؤ جانے والی لین پر، لکھنؤ سے تقریباً 22 کلومیٹر پہلے کیا گیا ہے، جہاں ٹیمیں سڑک پر کام کرتی نظر آئیں۔ اس ایکسپریس وے کے افتتاح کے بعد سے ہی کچھ مقامات پر سڑک کی سطح خراب ہونے اور پھسلن کی شکایات ملی ہیں، جس کے بعد اصلاحی اقدامات کیے گئے۔ اس معاملے پر اپوزیشن پارٹیاں کانگریس اور سماجوادی پارٹی بی جے پی حکومت پر حملہ آور بھی نظر آ رہی ہیں۔بہرحال، تازہ مرمتی کام پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ اے آئی) نے کہا کہ احتیاطی مرمت باقاعدہ آپریشن اور مینٹیننس (او اینڈ ایم) سرگرمیوں کا حصہ ہے۔ این ایچ اے آئی نے بتایا کہ ایکسپریس وے 15 سال کی ’ڈیفیکٹ لائیبلیٹی پیریڈ‘ (ڈی ایل پی) کے تحت آتا ہے۔ اس مدت کے دوران مرمت اور اصلاح کا کام کرنے کی ذمہ داری کانٹریکٹر کی ہوتی ہے۔ تازہ مرمت کا کام متاثرہ حصے کو درست کرنے اور ایکسپریس وے پر گاڑیوں کی آمد و رفت کو ہموار بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔SHOCKING | Just 10 days after its inauguration, a portion of the Kanpur–Lucknow Expressway caves in near Korari village in UP's Unnao following heavy rainfall pic.twitter.com/U0W4nk3oeB— The Tatva (@thetatvaindia) July 26, 2026دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ ہفتہ بھی 63 کلومیٹر طویل اور 4,200 کروڑ روپے کی لاگت سے بنائے گئے کانپور-لکھنؤ ایلیویٹیڈ ایکسپریس وے کی مرکزی سڑک کا ایک حصہ بارش کے باعث دھنس گیا تھا۔ یہ واقعہ اناؤ ضلع کے اچل گنج تھانہ علاقے میں کوراری کے قریب کلومیٹر نمبر 64-63 پر پیش آیا تھا۔ تعمیراتی کام پی این سی کمپنی نے کیا تھا اور اسے این ایچ اے آئی کے حوالہ کیا گیا تھا۔ افتتاح کے محض 13 دن بعد ہی سڑک کے خراب ہونے سے تعمیراتی معیار پر سوال اٹھنے لگے۔ اس کے بعد این ایچ اے آئی نے فوری طور پر مشینیں اور افسران تعینات کر کے سڑک کی کٹائی اور دوبارہ تعمیر کرائی اور ٹریفک بحال کر دیا۔ये लखनऊ-कानपुर एक्सप्रेसवे का वीडियो है 13 जुलाई को इस एक्सप्रेसवे का उद्घाटन हुआ, लेकिन महज 17 दिन में ये सड़क तीसरी बार उखड़ गई। 4,200 करोड़ रुपए की लागत से बना यह एक्सप्रेसवे BJP सरकार में भ्रष्टाचार की जीती-जागती मिसाल है। नरेंद्र मोदी के मार्गदर्शन में BJP के… pic.twitter.com/YlJitlKsAX— Congress (@INCIndia) July 31, 2026سڑک دھنسنے کے واقعہ کی ویڈیو سماجوادی پارٹی کے ایک کارکن نے سوشل میڈیا پر وائرل کر دی تھی۔ اس کے بعد سماجوادی پارٹی اور کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ کے اپنے اپنے آفیشیل ہینڈلس کے ذریعہ ویڈیو اور تصاویر شیئر کرتے ہوئے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ 13 جولائی کو بڑے زور و شور سے اس ایکسپریس وے کا افتتاح کیا گیا تھا اور اس کا موازنہ جرمنی کی سڑکوں سے کیا گیا تھا۔