’اسمبلی یا قانون ساز کونسل کا رکن بنے بغیر کیسے وزیر بنے ہوئے ہیں؟‘ دیپک پرکاش کی تقرری پر سپریم کورٹ سخت

Wait 5 sec.

سپریم کورٹ نے بہار حکومت سے پوچھا ہے کہ آخر کیسے ایک وزیر اسمبلی یا قانون ساز کونسل کا رکن بنے بغیر آئین میں طے شدہ 6 ماہ کی مدت سے زیادہ وقت تک عہدے پر برقرار ہے۔ ریاستی حکومت کو اس پر جواب دینا ہوگا۔ سی جے آئی سوریہ کانت کی صدارت والی بنچ کے سامنے بہار کے پنچایتی راج کے وزیر دیپک پرکاش کے خلاف داخل عرضی کا ذکر کیا گیا۔ عرضی میں آئین کی دفعہ 164(4) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کوئی بھی وزیر اگر تقرری کے 6 ماہ کے اندر اسمبلی یا قانون ساز کونسل کا رکن نہیں بنتا ہے تو وہ وزارت کے عہدہ پر نہیں رہ سکتا ہے۔ایم ایل سی نہیں، پھر بھی وزیرکیسے؟ دیپک پرکاش کی تقرری پر بہار حکومت، الیکشن کمیشن اور متعلقہ فریق کو سپریم کورٹ کا نوٹسعرضی گزار کی جانب سے کہا گیا کہ 6 ماہ سے زائد کا وقت گزر چکا ہے، لیکن دیپک پرکاش اب بھی وزارت کے عہدے پر بنے ہوئے ہیں۔ بہار حکومت کی جانب سے کہا گیا کہ معاملہ پہلے سے 27 اگست کو درج ہے اور اس پر فیصلہ عدالت پر چھوڑ دیا گیا۔ اس پر سی جے آئی سوریہ کانت نے کہا کہ یہ مکمل طور سے قانون کا سوال ہے اور ریاستی حکومت کو یہ بتانا ہوگا کہ کوئی وزیر 6 ماہ سے زائد وقت تک بغیر منتخب ہوئے کیسے عہدے پر بنا رہ سکتا ہے۔قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال نومبر میں دیپک پرکاش کو بغیر رکن اسمبلی منتخب ہوئے ہی اس وقت کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی حکومت میں شامل کر لیا گیا تھا۔ جب سمراٹ چودھری کی قیادت میں نئی حکومت بنی تب 15 اپریل سے 6 مئی تک دیپک پرکاش کوئی وزارتی عہدہ یا سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا۔ اس کے بعد 7 مئی کو اسمبلی کا رکن نہ ہوتے ہوئے بھی انہیں پھر سے وزیر بنا دیا گیا۔ آئین کی دفعہ 164(4) کے مطابق بغیر رکن اسمبلی بنے وزیر بننے کے لیے 6 ماہ تک کا وقت ملتا ہے۔ پرکاش اس مدت میں سے پہلے ہی 4 مہینہ 26 دن مکمل کر چکے تھے۔