دہلی (30 جولائی 2026): نیٹ پیپر لیک معاملے پر کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج رنگ لے آیا اور امتحانی پرچے لیک کرنے پر سخت سزا کا قانون منظور ہو گیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت کی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں لوک سبھا نے گزشتہ روز ایک نیا قانون منظور کیا ہے جس کے تحت ملک میں امتحانی پرچے آؤٹ کرنے والوں کے لیے سزا میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔منظور ہونے والے نئے قانون کے مطابق امتحانی پرچوں کے قبل از وقت آؤٹ کرنے کے مرتکب افراد کو 10 سال تک قید اور 10 لاکھ ڈالر سے زائد کا جرمانہ بھی کیا جا سکے گا۔بھارتی قانون سازوں نے اس سزا کو بڑھانے کے مسودہ قانون کے حق میں آواز بلند کر کے ووٹ دیا۔ اس سے قبل کئی گھنٹے تک اس قانون کے حق میں بھی اور خلاف بھی دلائل پیش کیے گئے۔بھارت سرکار کی طرف سے اب اگلے ہفتے کے دوران یہ بل پارلیمنٹ کی ایوان بالا راجیہ سبھا میں پیش کیا جائے گا۔راجیہ سبھا کی منظوری کے بعد اس نئے منظور کردہ قانون پر بھارتی صدر کے دستخط ہوں گے اور یہ مسودہ قانون باقاعدہ طور پر قانون بن کر نافذ العمل قرار پائے گا۔واضح رہے کہ بھارت میں امتحانی پرچوں کا قبل از وقت آؤٹ ہونا معمول ہے۔ تاہم نیٹ پیپر لیک معاملے پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بھرپور احتجاج نے بھارتی حکومت نوجوانوں اور طلبہ کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔نیٹ پیپر لیک احتجاج: بھارتی پولیس کا حیرت انگیز کارنامہ، روس میں مقیم شخص کیخلاف مقدمہ درج