تہران/لندن (01 اگست 2026): برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ نے اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی پر واضح کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں برطانیہ شریک نہیں ہے، اور حکومت مسئلہ کا سیاسی حل چاہتی ہے۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کی برطانوی وزیر خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے ساتھ جمعہ کو ٹیلی فون پر گفتگو ہوئی ہے، جس میں دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایران پر حملے میں تعاون ناقابلِ قبول ہے، چاہے وہ ماضی کے دفاعی معاہدوں کی بنیاد پر ہی کیوں نہ ہو، کسی ملک کی سرزمین یا تنصیبات کو دوسرے ملک پر حملے کے لیے استعمال کرنا بین الاقوامی قانون کے تحت جارحیت ہے۔ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق عباس عراقچی نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے نیک نیتی کے ساتھ سفارتی راستہ اختیار کیا اور 17 جون کو جنگ کے خاتمے کے لیے ایک مفاہمت تک پہنچا، لیکن امریکا نے اپنے وعدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک بار پھر اس مفاہمت پر عمل درآمد روک دیا۔امریکا، اسرائیل نے ایرانی توانائی مراکز پر حملے کی تیاری شروع کر دی، ایران کا بھی رد عملانھوں نے خبردار کیا کہ اس راستے میں تیسرے فریق کی جانب سے پیدا کی جانے والی رکاوٹیں موجودہ صورت حال کو مزید پیچیدہ بنانے کا سبب بنیں گی۔ کسی جارح فریق کو کسی دوسرے ملک پر غیر قانونی حملہ کرنے کے لیے کسی ملک کی سرزمین اور تنصیبات استعمال کرنے کی اجازت دینا بین الاقوامی قانون کے تحت جارحیت کا عمل تصور کیا جاتا ہے اور اس حملے کا نشانہ بننے والے ملک کو جائز دفاع کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔