پھر ہوا پیپر لیک! اڈیشہ میڈیکل پی جی امتحان کا سوالنامہ واٹس ایپ پر آنے کی خبر سے نئی ہلچل، کانگریس نے کہا ’شرمناک‘

Wait 5 sec.

نیٹ پیپر لیک اور امتحانات میں بے ضابطگی معاملہ پر مودی حکومت پہلے ہی کٹہرے میں کھڑی ہے، اب اڈیشہ میں پیپر لیک کے ایک نئے معاملہ نے ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ کانگریس نے تازہ پیپر لیک کی خبر سامنے آنے کے بعد مودی حکومت کو نہ صرف نشانے پر لیا ہے، بلکہ یہ بھی کہا کہ پورا سسٹم سویا ہوا ہے۔एक और पेपर लीकखबर है कि ओडिशा मेडिकल PG परीक्षा का पेपर लीक हो गया।MD/MS कोर्स (2023-26 बैच) में जनरल सर्जरी थ्योरी परीक्षा थी, जिसके प्रश्न पत्र WhatsApp पर सर्कुलेट हो गए। जब एक निजी मेडिकल छात्र तक ये प्रश्न पत्र पहुंचे, तब जाकर कॉलेज प्रशासन को पता चला। उससे पहले पूरा… pic.twitter.com/pitscotnzh— Congress (@INCIndia) July 31, 2026کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے، جس میں ہندی نیوز پورٹل ’خبر گاؤں‘ کی ایک خبر کا اسکرین شاٹ شیئر کیا گیا ہے۔ اس میں اسکرین شاٹ میں لکھا گیا ہے ’اڈیشہ میڈیکل پی جی امتحان کا پیپر لیک‘۔ ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہوا ہے کہ ’’امتحان کے دوران واٹس ایپ پر وائرل ہوا سوالنامہ‘‘ اس اسکرین شاٹ کے ساتھ کانگریس نے لکھا ہے ’’ایک اور پیپر لیک۔ خبر ہے کہ اڈیشہ میڈیکل پی جی امتحان کا پیپر لیک ہو گیا۔ ایم ڈی/ایم ایس کورس (26-2023 بیچ) میں جنرل سرجری تھیوری کا امتحان تھا، جس کا سوالنامہ واٹس ایپ پر سرکولیٹ ہو گیا۔‘‘ اس میں مزید لکھا گیا ہے کہ ’’جب ایک پرائیویٹ میڈیکل اسٹوڈنٹ تک یہ سوالنامہ پہنچا، تب جا کر کالج انتظامیہ کو پتہ چلا۔ اس سے قبل پورا سسٹم سویا ہوا تھا۔‘‘اس سوشل میڈیا پوسٹ میں کانگریس نے وزیر اعظم نریندر مودی پر براہ راست حملہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ایک طرف نریندر مودی صرف ’ریل بازی‘ کرنے مٰں مصروف ہیں اور دوسری طف پیپر لیک مافیا ’ڈبل انجن‘ حکومت کے سسٹم میں سیندھ ماری کر رہے ہیں۔ شرمناک۔‘‘ اڈیشہ میں پیش آئے اس پیپر لیک واقعہ کے بعد مرکز کی مودی حکومت کے ساتھ ساتھ اڈیشہ کی بی جے پی حکومت بھی کٹہرے میں کھڑی ہو گئی ہے۔ حالانکہ بتایا جا رہا ہے کہ انتظامیہ نے اس پیپر لیک معاملہ کی تحقیقات فوری طور پر شروع کر دی ہے۔اپوزیشن کے اعتراضات کے درمیان اینٹی پیپر لیک ترمیمی بل راجیہ سبھا سے منظور، اب صدر کی منظوری کے لیے بھیجا جائے گامیڈیا رپورٹس کے مطابق اڈیشہ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (او یو ایچ ایس) نے پیپر لیک معاملہ کی جانچ شروع کر دی ہے۔ یونیورسٹی نے اسے سنگین سیکورٹی خامی مانتے ہوئے سبھی میڈیکل کالجوں کو محتاط رہنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ معاملہ سامنے آنے کے بعد او یو ایچ ایس کے وائس چانسلر پروفیسر مانس رنجن ساہو نے میڈیکل کالجز کے پرنسپل کے ساتھ آن لائن میٹنگ کی، جس میں باقی امتحانات کے لیے سیکورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ کالج انتظامیہ کو امتحان مراکز پر نگرانی بڑھانے کی ہدایت بھی دی گئی ہے۔موصولہ اطلاع کے مطابق اڈیشہ میں پیپر لیک کا واقعہ 27 جولائی کو اس وقت پیش آیا جب جنرل سرجری تھیوری کا امتحان چل رہا تھا۔ امتحان شروع ہونے کے تھوڑی دیر بعد ہی سوالنامہ کی تصویریں سوشل میڈیا اور واٹس ایپ گروپ میں دکھائی دینے لگیں۔ اس سے طلبا اور اساتذہ کے درمیان فکر بڑھ گئی ہے۔ کچھ طلبا کا کہنا ہے کہ سوالنامہ کی تصویر ایک واٹس ایپ گروپ کے ذریعہ شیئر کی گئی۔ کچھ طلبا نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ امتحان کے دوران سوالوں کے جواب موبائل نمبروں سے بھیجے جا رہے تھے۔ حالانکہ ان الزامات کی ابھی تک تصدیق نہیں ہوئی ہے۔