طلبہ احتجاج: یوتھ کانگریس کا سوال- ’20 جولائی کو اس کے دفتر کے باہر پتھروں سے بھرا ٹرک کیسے پہنچا؟‘

Wait 5 sec.

نئی دہلی: انڈین یوتھ کانگریس (آئی وائی سی) نے 20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران اپنے دفتر کے باہر پتھروں سے بھرے ایک ٹرک کی موجودگی پر سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے اس معاملے کی آزادانہ عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نہ صرف ایک بڑی سکیورٹی چوک ہے بلکہ اس کے پیچھے کسی سازش کے امکانات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔آئی وائی سی کے قومی صدر ادے بھانو چِب نے جمعہ کو پریس کانفرنس میں کہا کہ 20 جولائی کو جب پارلیمنٹ کا گھیراؤ کیا جا رہا تھا، اسی دوران پتھروں سے بھرا ایک ڈمپر پہلے جنتر منتر کے علاقے میں دیکھا گیا اور بعد میں انڈین یوتھ کانگریس اور این ایس یو آئی کے دفاتر کے باہر پہنچ گیا۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ سخت سکیورٹی، بیریکیڈنگ اور ہائی الرٹ کے باوجود یہ ٹرک وہاں تک کیسے پہنچا اور کس کے حکم پر کھڑا کیا گیا۔ ادے بھانو چِب نے کہا کہ اگر یہ ٹرک جان بوجھ کر وہاں رکھا گیا تھا تو اس کی نیت کیا تھی؟ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کہیں ایسا منصوبہ تو نہیں تھا کہ احتجاج کے دوران ان پتھروں کا استعمال ہو اور اس کے بعد مظاہرین کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ ٹرک 20 جولائی سے 25 جولائی تک اسی مقام پر موجود رہا۔انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ دہلی ہائی کورٹ میں سرکاری وکیل نے اس ٹرک کو مظاہرین سے جوڑا، جبکہ 28 جولائی کو دہلی پولیس نے سوشل میڈیا پر کہا کہ یہ ٹرک ایک حادثے کے بعد ضبط کیا گیا تھا۔ چِب کے مطابق دونوں موقف ایک دوسرے سے متضاد ہیں، اس لیے پورے معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات ضروری ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ٹرک کی نقل و حرکت سے متعلق تمام سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کی جائیں، ذمہ داری طے کی جائے اور اس واقعے کے اصل ذمہ داروں کو سامنے لایا جائے۔ یوتھ کانگریس کے رہنما شانتنو سنگھ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے 20 جولائی کی سہ پہر تقریباً 3:45 بجے اس ٹرک کو آئی وائی سی دفتر کے باہر دیکھا تھا، جہاں اس وقت سینکڑوں طلبہ موجود تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ مارچ کے دوران پولیس کی لاٹھی چارج کے باوجود طلبہ پرامن تھے، لیکن انہوں نے کچھ ایسے افراد کو بھی ٹرک پر چڑھتے دیکھا جنہیں پولیس نے نہیں روکا۔ ان کے مطابق اگر دہلی پولیس نے پہلے ہی دعویٰ کیا تھا کہ ٹرک کو بھلسوا میں خالی کر دیا گیا تھا تو پھر وہ دوبارہ پارلیمنٹ اسٹریٹ اور یوتھ کانگریس دفتر کے باہر کیسے پہنچ گیا۔سماجی کارکن گرمہر کور نے بھی اس معاملے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر یہ ٹرک پہلے ہی پولیس تحویل میں تھا تو پھر پارلیمنٹ کے قریب اسے پتھروں اور دیگر اشیا کے ساتھ بغیر نگرانی کے کیوں رکھا گیا؟ انہوں نے کہا کہ اگر شرپسند عناصر ان اشیا کا استعمال کرتے تو سنگین تشدد بھڑک سکتا تھا۔آئی وائی سی کے قانونی شعبے کی قومی کنوینر چِتون گودارا نے کہا کہ یہ صرف ایک ٹرک کا معاملہ نہیں بلکہ قانون کی حکمرانی، جوابدہی اور سچائی کا مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق اگر دہلی پولیس نے بعد میں ٹرک کو اپنا قرار دیا تو یہ واضح ہونا چاہیے کہ ہائی کورٹ میں اس سے مختلف مؤقف کیوں اختیار کیا گیا تھا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کی شفاف تحقیقات کرائی جائیں تاکہ حقیقت سامنے آ سکے۔