رام مندر کے چندے کی مبینہ چوری کے معاملے میں ملزمان کے لیے ریاستی حکومت کی جانب سے مقرر کیے گئے قانونی امدادی وکیل کلشیکھر سنگھ نے اتر پردیش پولیس کی جانب سے عائد کی گئی بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی متعدد دفعات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جلد عدالت سے رجوع کریں گے تاکہ اس مقدمے کی تفتیش مناسب قانونی دفعات کے تحت کرائی جائے اور اسی کے مطابق چارج شیٹ داخل کی جائے۔کلشیکھر سنگھ کو اس وقت ملزمان کی پیروی کی ذمہ داری دی گئی تھی جب فیض آباد بار ایسوسی ایشن نے ایک قرارداد منظور کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اس مقدمے میں اس کے اراکین کسی بھی ملزم کی وکالت نہیں کریں گے۔وکیل نے کہا کہ پولیس نے ایک ہی مقدمے میں چوری اور مجرمانہ خیانت یا غبن سے متعلق دفعات بیک وقت عائد کی ہیں، جبکہ ان کے مطابق دونوں نوعیت کے الزامات ایک ساتھ لاگو نہیں کیے جا سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ عدالت سے درخواست کریں گے کہ پولیس کو مناسب قانونی دفعات کے تحت دوبارہ تفتیش اور اسی بنیاد پر چارج شیٹ داخل کرنے کی ہدایت دی جائے۔کلشیکھر سنگھ نے مزید کہا کہ مقدمے میں ایسی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں جن کے تحت عمر قید تک کی سزا کا انتظام ہے، حالانکہ ان کے بقول ملزمان کا یہ پہلا فوجداری مقدمہ ہے اور اس نوعیت کی سخت دفعات کا اطلاق مناسب معلوم نہیں ہوتا۔رام مندر ٹرسٹ کو تحلیل کیا جانا چاہیے: اجے رائےانہوں نے اس بات پر بھی اعتراض کیا کہ پولیس نے ملزمان کو ’لوک سیوک‘ (سرکاری ملازم) تصور کرتے ہوئے ان پر عوامی املاک میں خرد برد سے متعلق دفعات لگائی ہیں۔ ان کے مطابق رام مندر ٹرسٹ کوئی سرکاری یا عوامی اتھارٹی نہیں ہے، اس لیے ملزمان کو سرکاری ملازم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر مناسب دفعات عائد کی جاتیں تو ان کے مؤکلوں کو مقامی عدالت سے ضمانت حاصل کرنے میں آسانی ہوتی۔ضمانت کی درخواست کے بارے میں پوچھے جانے پر کلشیکھر سنگھ نے کہا کہ وہ آئندہ ہفتے اس سلسلے میں کارروائی شروع کریں گے، تاہم انہوں نے درخواست دائر کرنے کی کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی۔رام مندر چندہ چوری معاملہ: سپریم کورٹ کی ہدایت پر نئی ایس آئی ٹی تشکیل، چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ بھی ہوگا رکنادھر فیض آباد بار ایسوسی ایشن پہلے ہی اس مقدمے میں ملزمان کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے۔ ایسوسی ایشن نے اپنی قرارداد میں یہ بھی کہا تھا کہ اگر کوئی رکن ملزمان کی وکالت کرے گا تو اس پر پانچ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے اور اس کی رکنیت بھی ختم کی جا سکتی ہے۔کلشیکھر سنگھ نے واضح کیا کہ وہ فیض آباد بار ایسوسی ایشن کے رکن نہیں ہیں، اس لیے ان پر اس قرارداد کا اطلاق نہیں ہوتا اور وہ قانونی امداد کے تحت ملزمان کی پیروی کرنے کے لیے آزاد ہیں۔ اس مقدمے میں اویناش شکلا، انوکلپ مشرا، لوکیش مشرا، منیش کمار یادو، کرونیش پانڈے، راماشنکر مشرا، سبھاش شریواستو اور راماشنکر یادو عرف ٹنّو یادو کو ملزم بنایا گیا ہے۔ ریاستی حکومت نے جولائی کے دوسرے ہفتے میں کلشیکھر سنگھ کو ان ملزمان کے دفاع کے لیے قانونی امدادی وکیل مقرر کیا تھا۔