ایودھیا میں اب جلد بنے گی مسجد، معاشی مدد نہ ملنے پر 300 کروڑ کا منصوبہ گھٹ کر 5 کروڑ روپے تک پہنچا

Wait 5 sec.

ایودھیا کے دھنّی پور میں مسلم طبقہ کو الاٹ 5 ایکڑ اراضی پر مسجد تعمیر کا منصوبہ ایک بار پھر رفتار پکڑتا نظر آ رہا ہے۔ ’انڈو اسلامک کلچرل فاؤنڈیشن‘ (آئی آئی سی ایف) نے پہلے مجوزہ تقریباً 300 کروڑ روپے کے دیرینہ منصوبہ میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے اب تقریباً 5 کروڑ روپے کے خرچ سے مسجد کی تعمیر شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ ترمیم شدہ نقشہ آئندہ 20 دنوں کے اندر منظوری کے لیے جمع کر دیا جائے گا۔ایودھیا: دھنی پور مسجد کے نام پر چندہ وصولی! ٹرسٹ نے درج کرائی ایف آئی آر’انڈو اسلامک کلچرل فاؤنڈیشن‘ کے سربراہ ظفر احمد فاروقی کے مطابق نئی مسجد کا نام ’محمد بن عبداللہ‘ رکھا جائے گا۔ مسجد تقریباً 15 ہزار اسکوائر فیٹ رقبہ میں ہوگا، جبکہ اس کا احاطہ تقریباً 3500 اسکوائر فیٹ رہے گا۔ نقشہ میں ضروری تبدیلی کے بعد تعمیری عمل شروع کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ابتدائی منصوبہ میں صرف مسجد ہی نہیں بلکہ اسپتال، میوزیم، کمیونٹی کچن، لائبریری اور دیگر سماجی اصلاحات سے مزین ایک بڑا احاطہ تیار کرنے کا ارادہ تھا۔ اس پر ممکنہ خرچ تقریباً 300 کروڑ روپے ہونے کا اندازہ کیا گیا تھا۔ حالانکہ امید کے مطابق معاشی تعاون نہ ملنے اور کئی دیگر چیلنجز کے سبب فاؤنڈیشن نے فی الحال صرف مسجد تعمیر پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ لیا ہے۔ فاؤنڈیشن کے مطابق منصوبہ کو شروع سے ہی کئی طرح کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مسلم سماج کے ایک طبقہ نے روایتی گنبد والی مسجد کا مطالبہ کیا، جبکہ ممبئی سمیت دیگر شہروں کے صنعت کاروں اور ممکنہ فنڈ دینے والوں سے امید کے مطابق معاشی مدد نہیں مل سکی۔ ان وجوہات سے تعمیری کام لگاتار ٹلتا رہا اور بالآخر منصوبہ کی شکل بدلنی پڑی۔ایودھیا میں دھنی پور مسجد کی تعمیر اب تک شروع نہیں ہوئی! کئی محکموں نے لٹکائی ’این او سی‘فاؤنڈیشن نے بتایا کہ فی الحال ٹرسٹ کے پاس تقریباً 1.5 کروڑ روپے دستیاب ہیں۔ اسی رقم سے نقشہ منظور کرایا جائے گا اور ابتدائی تعمیری کام شروع ہوگا۔ بقیہ تقریباً 3.5 کروڑ روپے لکھنؤ، ایودھیا اور آس پاس کے اضلاع کے لوگوں سے امداد جمع کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس کے لیے جلد ہی ’عوامی تعاون مہم‘ بھی شروع کی جائے گی۔ ٹرسٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ سبھی ضروری انتظامی و قانونی عمل پورا ہوتے ہی مسجد تعمیر کا کام شروع کر دیا جائے گا۔ فی الحال مسجد کے لیے الاٹ دھنی پور کی زمین کا استعمال مقامی بچے کرکٹ کھیلنے کے لیے کرتے ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق پہلے اس احاطہ میں 15 اگست اور 26 جنوری کے موقع پر پرچم کشائی کا پروگرام بھی منعقد کیا جاتا تھا، لیکن اب وہ پروگرام بند ہو چکے ہیں۔