مرکزی حکومت نے بدھ کے روز پارلیمنٹ کو مطلع کیا کہ گزشتہ سال 12 جون کو احمد آباد ہوائی اڈے پر حادثے کا شکار ہونے والے ایئر انڈیا کے بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے کے فیول کنٹرول سوئچ سسٹم میں کوئی خرابی نہیں پائی گئی ہے۔ حکومت نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ آریجنل ایکوئپمنٹ مینوفیکچرر (او ای ایم) نے فیول کنٹرول سوئچ کی نئے سرے سے جانچ کی ہے اور سیئٹل میں پورے تھرسٹ کنٹرول ماڈیول کی اہم جانچ جاری ہے۔راجیہ سبھا میں سوالات کا جواب دیتے ہوئے شہری ہوا بازی کے وزیر مملکت مرلی دھر موہول نے کہا کہ یہ جانچ ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) کی ہدایت پر کی جا رہی ہے۔ یہ جانچ پرواز کے قابل ہونے کی مسلسل جانچ کا حصہ ہے، جو اس سال فروری میں اس نوعیت کے طیاروں کو گراؤنڈ کیے جانے کے بعد شروع کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ’’فیول کنٹرول سوئچ کی تفصیلی جانچ، جس میں اس کے لاکنگ ڈیٹنٹس کی ساختی مضبوطی کا بھی جائزہ لیا گیا، میں کوئی غیر معمولی بات سامنے نہیں آئی۔‘‘موہول نے جانچ کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ ’’او ای ایم کے پلانٹ میں پورے تھرسٹ کنٹرول ماڈیول کی جانچ جاری ہے۔‘‘ انھوں نے واضح کیا کہ اب تک کی جانچ میں فیول کنٹرول سوئچ میں کسی بھی قسم کی خرابی نہیں ملی ہے، تاہم پورے تھرسٹ کنٹرول ماڈیول کی جانچ ابھی جاری ہے اور تفتیش کار اس کے حتمی نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔ مرکزی وزیر نے پارلیمنٹ کو یہ بھی بتایا کہ طیارہ حادثہ تحقیقاتی بیورو (اے اے آئی بی) کی حتمی رپورٹ میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بڑے فضائی حادثات کی جانچ ایک مسلسل ارتقا پذیر عمل ہے اور اے آئی-171 طیارہ حادثے کی تحقیقات اب اپنے آخری مرحلے میں پہنچ چکی ہیں۔حکومت نے ان قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کر دیا کہ اے اے آئی بی نے حادثے سے متعلق اپنی حتمی رپورٹ جاری کرنے میں تاخیر کی ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بڑے فضائی حادثات کی تحقیقات کسی مقررہ مدت کی پابند نہیں ہوتیں بلکہ قائم شدہ تحقیقاتی طریقۂ کار کے مطابق آگے بڑھتی ہیں۔ مرکزی وزیر نے ایوان میں کہا کہ ’’حادثے کی تمام ممکنہ وجوہات اور اس میں کردار ادا کرنے والے تمام عوامل کی جانچ کی جا رہی ہے۔‘‘ حکومت نے یہ بھی کہا کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد تمام نتائج پر مشتمل حتمی تحقیقاتی رپورٹ عوام کے لیے جاری کی جائے گی اور اسے اے اے آئی بی کی ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کیا جائے گا۔