کولکاتا: نیٹ یو جی 2026 پیپر لیک کے خلاف کولکاتا میں ہونے والے احتجاج کے دوران گرفتار کیے گئے 16 افراد کو بڑی راحت دیتے ہوئے چیف میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت نے 500-500 روپے کے ذاتی مچلکوں پر ضمانت دے دی ہے۔ تاہم عدالت نے واضح کیا کہ اس مقدمے کی تفتیش بدستور جاری رہے گی اور ضمانت کا مطلب کیس کا خاتمہ نہیں ہے۔یہ تمام گرفتاریاں 24 جولائی کو کولکاتا میں نیٹ پیپر لیک کے خلاف نکالے گئے احتجاجی مارچ کے بعد عمل میں آئی تھیں۔ اس مظاہرے کا انعقاد بائیں بازو کی طلبہ تنظیموں نے کیا تھا۔ احتجاج کے دوران بعض مقامات پر تشدد اور توڑ پھوڑ کے واقعات پیش آئے، جس کے بعد پولیس نے متعدد افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔ گرفتار افراد میں خوانچہ فروش، مچھلی کاٹنے والے مزدور، چھوٹے تاجر، بے روزگار نوجوان اور مقامی سیاسی کارکن بھی شامل تھے۔سماعت کے دوران دفاعی وکلا نے عدالت کو بتایا کہ مرکزی حکومت نے جنتر منتر پر چلائی گئی طلبہ تحریک کے منتظمین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ نیٹ پیپر لیک کے خلاف ملک بھر میں احتجاج کرنے والوں کے خلاف درج مقدمات واپس لینے کی کارروائی کی جائے گی۔ وکلا نے سپریم کورٹ اور مرکزی حکومت کے درمیان اس اتفاق رائے کا بھی حوالہ دیا، جس کے مطابق پرامن احتجاج میں شریک طلبہ کے خلاف سخت کارروائی نہ کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ رعایت ایسے افراد پر لاگو نہیں ہوگی جن کا مجرمانہ ریکارڈ موجود ہو۔عدالت نے سماعت کے دوران تفتیشی افسر سے دریافت کیا کہ آیا گرفتار افراد کا کوئی مجرمانہ پس منظر ہے۔ اس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ 16 میں سے پانچ افراد کے خلاف پہلے بھی مقدمات درج رہے ہیں۔ دفاعی وکلا نے اس پر سوال اٹھایا کہ کیا ان مقدمات میں کسی عدالت نے انہیں مجرم قرار دیا تھا۔ اس سوال کا واضح جواب نہ ملنے پر مجسٹریٹ نے تمام 16 ملزمان کو 500-500 روپے کے ذاتی مچلکوں پر ضمانت دے دی۔ضمانت پانے والوں کے اہل خانہ نے دعویٰ کیا کہ ان کے عزیز تشدد یا توڑ پھوڑ میں ملوث نہیں تھے۔ چپل فروخت کرنے والے خالد رضا عرف رنکو کی ساس کے مطابق وہ اس روز خریداری کے لیے گئے تھے، لیکن بعد میں پولیس نے انہیں گرفتار کر لیا۔ اسی طرح بڑابازار کے پھل فروش اور کانگریس کارکن محمد عالمگیر کی اہلیہ رخسار نے الزام لگایا کہ ان کے شوہر کو گھر سے اٹھایا گیا، حالانکہ وہ اپنی بیٹی کی سالگرہ کی تیاری کر رہے تھے۔اسی مقدمے میں ایمہرسٹ اسٹریٹ کے پھل فروش ارشد علی عرف ساجد، کرایا کے رہائشی اور مچھلی کاٹنے والے شاہباز خان، ملازمت کی تلاش میں مصروف محسن خان اور ایک کالج گریجویٹ کا نام بھی سامنے آیا ہے۔ شاہباز خان کی والدہ رخسان بیگم نے کہا کہ ان کا بیٹا دہلی میں ہونے والے احتجاج کے اظہارِ یکجہتی کے لیے دھرم تلہ گیا تھا، مگر انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ وہاں بعد میں تشدد کے واقعات پیش آئیں گے۔عدالت کی جانب سے ضمانت ملنے کے باوجود اس مقدمے کی تحقیقات جاری رہیں گی اور آئندہ سماعتوں میں پولیس کی تفتیش اور دیگر شواہد کی بنیاد پر کارروائی آگے بڑھائی جائے گی۔