نئی ایرانی ایٹمی سائٹ قدرتی طور پر ’’بم پروف‘‘ ہے، برطانوی ماہر ارضیات کا دعویٰ

Wait 5 sec.

(29 جولائی 2026): آکسفورڈ یونیورسٹی سے وابستہ پروفیسر ارضیات رچرڈ والکر نے ایران کی نئی ایٹمی سائٹ کو قدرتی طور پر بم پروف قرار دیا ہے۔امریکی رسالے سائنٹیفک امریکن کے ایک مضمون میں رچرڈ والکر نے یہ انکشاف کر سب کو حیران کر دیا ہے کہ ایران کی کوہ کلنک گزلا کے نیچے واقع نو تعمیر شدہ ایٹمی سائٹ دنیا کے تمام ایٹمی مراکز میں مضبوط ترین اور قدرتی طور پر بم پروف سائٹ ہے۔ماہر ارضیات نے اپنے اس دعوے کی توجیہہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس کے دنیا کی سب سے مضبوط ترینن سائٹ ہونے کی وجہ اس پہاڑ کی چٹانیں ہیں، جو ’’اینڈیسائٹ‘‘(Andesite)آتش فشانی پتھر سے بنی ہیں۔یہ ایسے پتھر ہیں، جن کا نمبر پتھروں کی سختی کے پیمانے، موس(Mohs) پر 6 تا 7 ہے، گویا وہ اسٹیل سے بھی زیادہ مزاحمت رکھتا ہے۔واضح رہے کہ امریکا ایران میں کوہ کلنگ گزلا کے نیچے واقع نوتعمیر ایٹمی مقام تباہ کرنا چاہتا ہے، کیونکہ اسے یقین ہے ایرانیوں نے وہاں یورینیم افزودہ کرتی جدید ترین سینٹری فیوج مشینیں اور شاید ایٹم بم بنانے کے قابل یورینیم چھپا رکھا ہے۔اگر امریکا اس منصوبے پر عمل کرتے ہوئے اپنے پاس موجود دنیا کا سب سے طاقتور اور 30 ہزار پونڈ وزنی بم GBU-57 استعمال کرتا اور اس کو کوہ کلنگ پر گراتا ہے تو وہ صرف 50 سے 60 فٹ نیچے ہی جا سکے گا۔دوسری جانب ایران نے مذکورہ مقام پر 362 فٹ گہرائی میں وہ سرنگیں بنائی ہیں جہاں امریکی گمان کے مطابق ایٹمی آلات اور شاید یورینیم محفوظ ہے۔امریکی حملوں میں ایران کی پٹرول و گیس کی پیداواری صلاحیت کتنی کم ہوئی؟