امریکا اور سعودی عرب کے عراق میں ایرانی پراکسیز کے ٹھکانوں پر حملے

Wait 5 sec.

واشنگٹن/ریاض (29 جولائی 2026): امریکا اور سعودی عرب نے عراق میں ایرانی پراکیسز کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں، امریکی سینٹرل کمانڈ اور سعودی وزارت دفاع نے حملوں کی تصدیق کر دی۔امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ حملے ایران سے وابستہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف کیے گئے ہیں، عراق میں دہشت گرد گروہوں کو پاسداران نے ہدایت دی تھی، جس پر گزشتہ 72 گھنٹوں میں عراق سے 30 سے زائد ڈرون حملے کیے گئے تھے۔سینٹ کام نے کہا یہ گروہ امریکی فورسز اور سعودی توانائی ڈھانچے پر حملوں کی تیاری کر رہے تھے، مشترکہ حملے میں عراق بھر میں دہشت گردوں کے لاجسٹکس اور ہتھیاروں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔انفجارات وتصاعد دخان في قضاء الدير بمحافظة البصرة جنوبي العراق pic.twitter.com/sDwWuTVHDR— الجزيرة مباشر (@ajmubasher) July 29, 2026ترجمان سعودی وزارت دفاع نے کہا کہ سعودی مسلح افواج نے امریکی سینٹرل کمانڈ کے ساتھ مل کرعراق میں کارروائی کی ہے، کیوں کہ عراق سے ایرانی حامی دہشت گرد گروہوں نے سعودی پیٹرولیم تنصیبات پر حملے کی کوشش کی تھی۔سعودی عرب پر عراق سے ڈرون حملہ ناکاممیجر جنرل ترکی المالکی نے کہا یہ کارروائی مملکت کے دفاع اور تحفظ کے جائز حق کی توثیق کرتی ہے، ہم کشیدگی میں اضافے کی خواہاں نہیں لیکن جارحیت کا بھرپور جواب دیں گے۔سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ عراق میں ’’مخصوص اہداف‘‘ پر امریکا اور سعودی عرب کے حملے ’’بین الاقوامی قانون کے تحت حاصل حقِ دفاعِ ذات‘‘ کی بنیاد پر کیے گئے۔سرکاری خبر رساں ایجنسی ایس پی اے کے ذریعے جاری کیے گئے ایک بیان میں وزارت نے کہا کہ یہ حملے ایران کی حمایت یافتہ عراقی ملیشیاؤں کی جانب سے ڈرون حملوں کے جواب میں کیے گئے، جن کا نشانہ مملکت کی تیل کی تنصیبات تھیں۔