عباس عراقچی کا یوکرینی ہم منصب سے بات چیت کے بعد اہم بیان

Wait 5 sec.

تہران (29 جولائی 2026): ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ یوکرین کے ہم منصب نے انھیں یقین دلایا ہے کہ ایرانی جہاز پر حملہ غیر ارادی تھا۔عباس عراقچی نے کہا یوکرین کشیدگی نہیں چاہتا، ایران بھی کشیدگی نہیں چاہتا، لیکن ایرانی مفادات پر حملہ ناقابل قبول ہے، اور اس سے ہونے والے نقصانات کی تلافی ضروری ہے۔دوسری طرف یوکرین کے وزیر خارجہ نے منگل کو کہا کہ انھوں نے ایک ایرانی جہاز پر مہلک حملے کے بعد ایران پر زور دیا ہے کہ وہ کشیدگی میں اضافہ کرنے سے گریز کرے۔ایکس پر ایک پوسٹ میں آندری سیبیہا نے کہا کہ ان کی ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے ’’کھل کر بات چیت‘‘ ہوئی، اور انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین کی فوجی کارروائیاں صرف ’’روسی جارحیت‘‘ کے خلاف اپنے ملک کے دفاع کے لیے ہیں۔امریکا اور سعودی عرب کے عراق میں ایرانی پراکسیز کے ٹھکانوں پر حملےسیبیہا نے کہا ’’سفارت کاری کا تقاضا ہے کہ براہِ راست بات کی جائے، خواہ وہ کتنی ہی مشکل کیوں نہ ہو۔ میں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمارا مقصد غیر ضروری کشیدگی سے بچنا ہے۔ میں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ یوکرین کی تمام کارروائیاں صرف روسی جارحیت کے خلاف اپنے ملک کے دفاع کے لیے ہیں، اور ان کا مقصد کبھی بھی شہری جہازوں یا عام شہریوں کو نشانہ بنانا نہیں رہا۔‘‘انھوں نے مزید کہا ’’یہ بات ایران کے ان بیانات پر بھی لاگو ہوتی ہے جن میں اس کے ایک شہری کی ہلاکت اور حالیہ واقعے میں نشانہ بنائے گئے ایک شہری جہاز کا ذکر کیا گیا ہے۔ ہمارا مقصد روسی جارحیت کا مقابلہ کرنا ہے، جو تمام واقعات کی بنیادی وجہ ہے، اور تمام اشتعال انگیزیوں اور جانی نقصان کی مکمل ذمہ داری روس پر عائد ہوتی ہے۔‘‘یوکرینی وزیر خارجہ نے ایران پر یہ زور بھی دیا کہ وہ جوابی اقدامات سے گریز کرے اور یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کے لیے ہر قسم کی معاونت ختم کرے۔