واشنگٹن (29 جولائی 2026): فاکس نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کی بحالی کے قریب پہنچ گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے ثالثوں کا خیال ہے کہ امریکا اور ایران ایک ایسے معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں جو ناکام ثابت ہونے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو دوبارہ نافذ کرے گا۔ یہ بات دی ٹائمز آف اسرائیل نے اپنی ایک رپورٹ میں کہی ہے۔رپورٹ میں ایک عرب عہدے دار اور مذاکرات سے باخبر ایک اور ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان، مصر اور قطر کے مذاکرات کار اس بات کی وضاحت پر کام کر رہے ہیں کہ آبنائے ہرمز میں آمدورفت کا نظام کس طرح چلایا جائے گا، مذاکرات کار ہرمز کے انتظامی طریقہ کار پر اختلافات دور کرنے میں مصروف ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کا خیال تھا کہ جون میں دستخط کی گئی ایم او یو، جس کے نتیجے میں مختصر مدت کی جنگ بندی ہوئی تھی، اسے آبنائے ہرمز پر وسیع اختیارات دیتی ہے، تاہم امریکا اس تشریح سے اختلاف کرتا ہے۔امریکا اور سعودی عرب کے عراق میں ایرانی پراکسیز کے ٹھکانوں پر حملےرپورٹ کے مطابق، آبنائے ہرمز کے کنارے واقع دونوں ممالک، ایران اور عمان، ثالثوں کی پیش کردہ تجویز سے اتفاق کر چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منگل کو اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد وائٹ ہاؤس اس معاملے پر حتمی فیصلہ کرے گا۔ادھر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران سے معاہدہ نہ ہوا تو مشن مکمل کریں گے، آبنائے ہرمز پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے، ایران جانے والا ایک بھی جہاز امریکی ناکہ بندی عبور نہیں کر سکتا۔انھوں نے کہا ایران بار بار اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ جاتا ہے، اب ایران کو معاہدوں کی خلاف ورزی نہیں کرنے دیں گے، ایران کی توانائی تنصیبات پر حملہ نہیں کرنا چاہتے۔