نئی دہلی: کانگریس نے نیٹ پیپر لیک کے خلاف احتجاج کرنے والے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی کو لے کر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ پر سخت حملہ کیا ہے۔ پارٹی نے سوال اٹھایا ہے کہ احتجاج کے دوران طلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال، اے کے-47 سے لیس سکیورٹی اہلکاروں کی تعیناتی اور بغیر شناختی بیج یا وردی کے اہلکاروں کی موجودگی کی اجازت آخر کس نے دی۔ایک نیوز چینل کی مباحثہ میں کانگریس رہنما گردیپ سنگھ سپّل نے کہا کہ طلبہ کے خلاف طاقت کے استعمال میں بھیڑ پر قابو پانے سے متعلق سپریم کورٹ کی ہدایات کی خلاف ورزی کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو اس پورے معاملے پر جواب دینا چاہیے اور ذمہ داری طے کی جانی چاہیے۔سپّل نے انڈین ایکسپریس کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ احتجاج کے دوران سی آر پی ایف کی ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) نے پیلٹ گن سے کم از کم 5 راؤنڈ فائرنگ کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ممکن ہے دہلی پولیس نے پیلٹ گن استعمال نہ کی ہو، لیکن موقع پر موجود ریپڈ ایکشن فورس نے ایسا کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ راہل گاندھی زخمی طلبہ میں سے ایک کو میڈیا کے سامنے لا چکے ہیں، اس لیے اصل سوالوں سے توجہ نہیں ہٹائی جانی چاہیے۔کانگریس رہنما نے مزید کہا کہ بہار اور پارلیمنٹ کے باہر طلبہ کے احتجاج کے دوران اسالٹ رائفل (اے کے-47) سے لیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ ان کے مطابق مختلف ویڈیوز میں ایسے اہلکار واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ طلبہ کے احتجاج میں اس نوعیت کے ہتھیاروں کی موجودگی کی ضرورت کیوں پیش آئی، جبکہ مظاہرین دہشت گرد نہیں بلکہ اپنے مستقبل کے لیے آواز بلند کرنے والے نوجوان تھے۔اینٹی پیپر لیک بل پر پہلے دن کی بحث ختم، لوک سبھا کی کارروائی ملتویگردیپ سنگھ سپّل نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ احتجاج کے دوران بغیر شناختی بیج والے اور سادہ لباس میں موجود اہلکار بھی بھیڑ کو منتشر کرنے اور لاٹھی چارج کی کارروائی میں شریک تھے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے 2006 کے پرکاش سنگھ مقدمہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پولیس اہلکاروں کے لیے شناختی بیج پہننا لازمی ہے اور سادہ لباس میں لاٹھی چارج کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض پولیس افسران نے سادہ لباس میں کارروائی کا حصہ بننے سے انکار کیا، جس کے بعد انہیں عہدوں سے ہٹا دیا گیا، تاہم اس دعوے کے حق میں انہوں نے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔پرینکا گاندھی کا حکومت پر سخت حملہ، ’طلبہ پر آنسو گیس، لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کیوں چلائی گئی؟‘अमित शाह को बचाना है, तो पैलेट गन और AK 47 चलाने के सच को ही नकार रहे हैं। बाक़ी रही पेपर लीक बिल की हक़ीक़त, तो आज ही फ़ास्ट ट्रैक कोर्ट की पहली सुनवाई थी, आज ही CBI का वकील नहीं पहुँचा।अभी जब मामला इतना गर्म है, तब ये हाल है, तो बाद में क्या हश्र होगा? pic.twitter.com/XKkeLQktz3— Gurdeep Singh Sappal (@gurdeepsappal) July 27, 2026سپّل نے حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ طلبہ کے اصل مسائل حل کرنے کے بجائے اینٹی پیپر لیک قانون میں ترمیم جیسے اقدامات کے ذریعے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاسٹ ٹریک عدالت میں نیٹ پیپر لیک کیس کی پہلی سماعت کے دوران سی بی آئی کے وکیل کی غیر موجودگی حکومت کی سنجیدگی پر سوال کھڑے کرتی ہے۔کانگریس رہنما نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ حکومت نے احتجاج ختم کرانے کے لیے طلبہ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ان کے خلاف درج تمام ایف آئی آر واپس لی جائیں گی اور پرامن مظاہرین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق اگر حکومت اپنے وعدے سے پیچھے ہٹی تو پارلیمنٹ کا معمول کے مطابق چلنا مشکل ہو جائے گا۔تاہم مرکزی حکومت اور وزارت داخلہ نے کانگریس کے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا ہے، جبکہ ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق بھی نہیں ہو سکی ہے۔