مدھیہ پردیش کے بھوپال ضلع میں سی بی آئی کی ایک خصوصی عدالت نے منگل کو ٹویشا شرما کی مبینہ طور پر جہیز کی وجہ سے ہوئی موت کے معاملے میں ملزمہ ریٹائرڈ ضلع جج گریبالا سنگھ اور ان کے بیٹے سمرتھ سنگھ کی عدالتی حراست 11 اگست تک بڑھا دی۔ ریگولر مجسٹریٹ کے رخصت پر ہونے کی وجہ سے کیس کی سماعت ڈیوٹی مجسٹریٹ کے سامنے ہوئی۔ دونوں ملزمان ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔ٹویشا شرما کے اہل خانہ کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل شبھانگ دیکشت نے ’آئی اے این ایس‘ کو بتایا کہ سی بی آئی کی یہ دلیل سننے کے بعد کہ تفتیش ابھی جاری ہے، عدالت نے ان کی جوڈیشل حراست میں توسیع کی درخواست منظور کر لی۔ عدالت میں سماعت کے دوران ملزمان نے سی بی آئی کے اس الزام کی مخالفت کی کہ انہوں نے اپنی آواز کے نمونے (وائس سیمپل) دینے میں تعاون نہیں کیا تھا۔بچاؤ فریق نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ آواز کے نمونے لینے کے عمل کے دوران تفتیشی ایجنسی کے افسران کا سلوک ٹھیک نہیں تھا اور اس پر عدالت کے سامنے اعتراض ظاہر کیا۔ دیکشت کے مطابق عدالت نے زبانی طور پر کہا کہ آواز کے نمونوں سے جڑا معاملہ ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کے دوران پہلے ہی اٹھایا جا چکا تھا۔ چونکہ ضمانت کی عرضی پر پہلے ہی فیصلہ ہو چکا تھا، اس لیے یہ معاملہ موجودہ ریمانڈ کی کارروائی کے لیے مناسب نہیں تھا۔حالانکہ یہ تبصرہ عدالت کے تحریری حکم کا حصہ نہیں بنا۔ بچاؤ فریق نے عدالتی حراست میں توسیع کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ سی بی آئی کی درخواست میں مزید ریمانڈ مانگنے کے لیے کوئی نیا ٹھوس بنیاد نہیں بتایا گیا تھا۔ انہوں نے تفتیشی ایجنسی سے یہ بھی پوچھا کہ تحقیقات کے دوران اب تک کتنے گواہوں سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے۔ اس مطالبے کی مخالفت کرتے ہوئے سی بی آئی نے کہا کہ تفتیش ابھی جاری ہے اور اس مرحلے پر گواہوں کی تعداد یا ریکارڈ کیے گئے بیانات کی تفصیلات ظاہر کرنے سے تفتیش متاثر ہو سکتی ہے۔ اس لیے ایجنسی نے عدالت کے سامنے ایسی معلومات کا تبادلہ کرنے سے انکار کر دیا۔دیکشت نے بتایا کہ فریقین کو سننے کے بعد عدالت نے سی بی آئی کی درخواست منظور کر لی اور دونوں ملزمان کی جوڈیشل حراست 11 اگست تک بڑھا دی۔ قابل ذکر ہے کہ 12 مئی کی رات بھوپال کے کٹارا ہلز علاقے میں ٹویشا شرما اپنے سسرال میں مردہ پائی گئی تھیں۔ جہاں ٹویشا کے سسرال والوں کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے خودکشی کی ہے، وہیں ان کے میکے والوں کا الزام تھا کہ جہیز کے مطالبے کو لے کر ان کا قتل کیا گیا تھا۔ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر سوالات اٹھنے کے بعد یہ معاملہ بعد میں عدالتی انکوائری کے دائرے میں آ گیا تھا۔