بھوپال: مدھیہ پردیش میں مونگ کی فصل کی سو فیصد سرکاری خرید اور کھاد کی تقسیم کے نظام میں بہتری کے مطالبے پر ریاست بھر سے ہزاروں کسان منگل کو دارالحکومت بھوپال پہنچ گئے۔ 19 کسان تنظیموں کے مشترکہ بینر تلے جمع ہونے والے کسان وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ (سی ایم ہاؤس) کا گھیراؤ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے پیش نظر شہر میں سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔کسانوں کے قافلے میں بڑی تعداد میں ٹریکٹر ٹرالیاں اور دیگر گاڑیاں شامل ہیں۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ساتھ سات دن کا راشن اور پانی لے کر آئے ہیں اور جب تک ان کے مطالبات پورے نہیں کیے جاتے، تب تک بھوپال سے واپس نہیں جائیں گے۔پولیس نے کسانوں کو سی ایم ہاؤس کی طرف بڑھنے سے روکنے کے لیے برکت اللہ پل کے قریب سخت ناکہ بندی کر دی۔ راستوں پر بیریکیڈ لگائے گئے، بسیں کھڑی کر کے سڑکیں بند کی گئیں، جبکہ واٹر کینن، وجر گاڑیاں، اسپیشل آرمڈ فورس (ایس اے ایف)، ریپڈ ایکشن فورس (آر اے ایف) اور 20 سے زائد تھانوں کی پولیس کو تعینات کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود کئی مقامات پر کسانوں نے بیریکیڈ توڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کی، جس کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان دھکا مکی بھی ہوئی۔کسان رہنماؤں کا الزام ہے کہ انتظامیہ نے احتجاج کو کمزور کرنے کے لیے کئی تنظیمی رہنماؤں کو حراست میں لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کسانوں کے مسائل سننے کے بجائے انہیں دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔بھارتیہ کسان یونین کے ریاستی نائب صدر سنتوش پٹوارے نے الزام لگایا کہ حکومت مونگ کی پوری فصل خریدنے کے اپنے وعدے پر عمل نہیں کر رہی۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر زرعی وزیر کے ساتھ ہونے والی بات چیت بھی بے نتیجہ رہی، جس کے بعد کسانوں میں ناراضگی مزید بڑھ گئی۔احتجاج کے باعث بھوپال اور اس سے ملحقہ علاقوں میں ٹریفک شدید متاثر ہوئی ہے۔ عبید اللہ گنج سے بھوپال آنے والی قومی شاہراہ کو بند کر دیا گیا، جبکہ جبل پور کی سمت سے سلطان پور روڈ پر بھی آمدورفت متاثر ہوئی۔ شہر کے کئی اہم راستوں پر کئی کلومیٹر طویل گاڑیوں کی قطاریں دیکھنے میں آئیں، جس سے عام شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔پولیس اور ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسران مسلسل صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے گئے ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ احتجاج پرامن رہے۔ یہ احتجاج ایسے وقت میں شدت اختیار کر گیا ہے جب مدھیہ پردیش میں مونگ کی کم از کم امدادی قیمت (ایم ایس پی) پر سو فیصد خرید کے مطالبے کو لے کر گزشتہ کئی دنوں سے کسان مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ کسان تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ اگر حکومت نے جلد ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے تو ریاست گیر تحریک کو مزید وسیع کیا جائے گا۔