سدارمیا کا پرہلاد جوشی کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ، تقرری کو آر ایس ایس کی نظریاتی سوچ سے جوڑا

Wait 5 sec.

کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ سدارمیا نے بدھ کے روز مرکزی وزیر تعلیم پرہلاد جوشی کو فوری طور پر عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سوچ آر ایس ایس کے نظریے سے متاثر ہے اور بلقیس بانو معاملے کے مجرموں کے بارے میں ان کا سابقہ مؤقف انتہائی تشویشناک رہا ہے۔سدارمیا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں پرہلاد جوشی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کرناٹک کو اس بات پر خوشی منانی چاہیے تھی کہ ریاست کے ایک رکن پارلیمنٹ کو وزارتِ تعلیم جیسی اہم ذمہ داری ملی ہے، لیکن اس کے برعکس ان کی تقرری سے ’’کنڑ بولنے والے خود کو شرمندہ محسوس کر رہے ہیں۔‘‘سابق وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا کہ پرہلاد جوشی صرف سابق وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کا چہرہ بدلنے کے مترادف ہیں، ان کی نظریاتی سوچ میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں رہنما آر ایس ایس سے وابستہ تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) سے وابستہ رہے ہیں اور خواتین، دلتوں، پسماندہ طبقات، اقلیتوں اور غریبوں کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر بھی آر ایس ایس کی فکر سے متاثر ہے۔سدارمیا نے کہا، "صرف چہرہ بدلا ہے، سمت وہی ہے۔ وہ بھی آر ایس ایس کے اشاروں پر ہی کام کریں گے۔" انہوں نے بلقیس بانو کیس کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ پرہلاد جوشی نے ’’حسنِ سلوک‘‘ کی بنیاد پر مجرموں کی رہائی کے گجرات حکومت کے فیصلے کا دفاع کیا تھا۔ ان کے مطابق اس طرح کا مؤقف اس بات پر سنگین خدشات پیدا کرتا ہے کہ ان کی قیادت میں ملک کا تعلیمی نظام کس سمت میں جائے گا۔سدارمیا نے کانگریس رہنماؤں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں نے لوک سبھا میں پرہلاد جوشی کو بے نقاب کیا اور ’’ملک کے سامنے حقیقت پیش کی۔‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگرچہ پارلیمنٹ کے اندر آوازوں کو دبایا جا سکتا ہے، لیکن "ملک کے کروڑوں عوام کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔"