اتر پردیش کانگریس کے صدر اجے رائے نے رام مندر ٹرسٹ کو تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ رام مندر ٹرسٹ میں عطیات کو لے کر تنازعہ دیکھنے کو ملا۔ عطیات کے ساتھ ہیرا پھیری کی گئی۔ اجے رائے نے جمعرات کو خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’رام مندر ٹرسٹ نیک کام کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن افسوس کی بات ہے کہ ٹرسٹ میں شامل افراد نے ایسا غلط کام کیا۔ رام کے نام پر یہ لوگ اقتدار میں آئے اور بعد میں ایسے حالات پیدا ہو گئے کہ انہوں نے خود بھگوان رام کو ہی بدنام کرنے کا کام کیا، جسے کسی بھی قیمت پر برداشت نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ملکارجن کھڑگے اور راہل گاندھی کا پی ایم مودی کو مشترکہ خط، رام مندر معاملے میں غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہاجے رائے نے مزید کہا کہ مجھے لگتا ہے موجودہ صورتحال کو دیکھ کر ٹرسٹ کو تحلیل کر دینا چاہیے اور اسے سادھو سنتوں اور شنکراچاریوں کے ماتحت لانا چاہیے تاکہ اس کا تقدس یقینی بنایا جا سکے۔ میرا کہنا ہے کہ اس ٹرسٹ میں ایودھیا کے لوگوں کو شامل کیا جانا چاہیے، کیونکہ یہی لوگ بھگوان رام کی نسل ہیں۔دوسری جانب وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اعلان کیا ہے کہ بھدوہی کو اب سنت روی داس نگر کے نام سے جانا جائے گا۔ اس پر کانگریس کے ریاستی صدر اجے رائے نے کہا کہ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ جب سے یہ لوگ اقتدار میں آئے ہیں، تب سے صرف نام ہی تبدیل کر رہے ہیں۔ اب تک انہوں نے نام بدلنے کے علاوہ اور کیا ہی کیا ہے؟ لیکن میں ایک بات صاف کر دینا چاہتا ہوں کہ نام تبدیل کرنے سے کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ اگر آپ کو واقعی میں کام کرنا ہے تو اس کے لیے آپ کو زمینی سطح پر اترنا ہوگا۔اجے رائے نے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ بھدوہی میں ترقی کی رفتار تیز ہو تو اس کے لیے قالین کی صنعت کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا۔ افسوس کی بات ہے کہ اس پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ بھدوہی میں قائم تمام قالین فیکٹریاں ہریانہ اور دیگر ریاستوں میں جا چکی ہیں۔ مجموعی طور پر میں یہی کہنا چاہوں گا کہ صرف نام تبدیل کرنے سے کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ یہاں پر آپ کو روزگار کے مواقع بھی پیدا کرنے ہوں گے، تاکہ لوگوں کو کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کی جرسی کے رنگ بدلے جانے پر بھی اجے رائے نے ردعمل کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق جب سے یہ حکومت آئی ہے تب سے یہ لوگ نام اور رنگ ہی بدل رہے ہیں، لیکن اس سے انہیں کچھ بھی حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ اب کھیلوں میں بھی اس طرح کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، جس سے ملک کے عوام کے جذبات وابستہ ہیں۔ میرے خیال میں اس فیصلے کو واپس لانا چاہیے۔ ہاکی ٹیم کی جرسی کا رنگ زعفرانی کے بجائے دوبارہ نیلا کر دینا چاہیے۔