عراق نے اپنی سرزمین سے سعودی عرب پر ہونے والے ’حملے کے ثبوت‘ کا مطالبہ کیا ہے۔بغداد نے شکایت کی ہے کہ امریکی سعودی جارحیت نے سعودی عرب کو مبینہ طور پر نشانہ بنانے کے حوالے سے تحقیقاتی کوششوں میں رکاوٹ ڈالی ہے۔عراق کی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف کے ترجمان نے عراقی نیوز ایجنسی کو بتایا کہ "ہم عراق سے حملوں کے آغاز کے حوالے سے شواہد اور ثبوت مانگتے ہیں اور کسی فریق نے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔”ترجمان نے مزید کہا کہ سیکیورٹی رہنما "حملوں کو روکنے اور عراق کی خودمختاری کے تحفظ” کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔امریکا اور سعودی عرب کے عراق میں ایرانی پراکسیز کے ٹھکانوں پر حملےعراق پر حملےامریکا اور سعودی عرب نے عراق میں ایرانی پراکیسز کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں، امریکی سینٹرل کمانڈ اور سعودی وزارت دفاع نے حملوں کی تصدیق کر دی۔امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے کہ حملے ایران سے وابستہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف کیے گئے ہیں، عراق میں دہشت گرد گروہوں کو پاسداران نے ہدایت دی تھی، جس پر گزشتہ 72 گھنٹوں میں عراق سے 30 سے زائد ڈرون حملے کیے گئے تھے۔سینٹ کام نے کہا یہ گروہ امریکی فورسز اور سعودی توانائی ڈھانچے پر حملوں کی تیاری کر رہے تھے، مشترکہ حملے میں عراق بھر میں دہشت گردوں کے لاجسٹکس اور ہتھیاروں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔سعودی عرب پر عراق سے ڈرون حملہ ناکام