لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے تمل ناڈو کے مہابلی پورم میں انتخابی حلقوں کی نئی حد بندی سے متعلق میڈیا سے بات کرتے ہوئے مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ ’’بی جے پی حد بندی کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ حد بندی کا مقصد لوگوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنا اور تمل ناڈو کے لوگوں کی سیاسی طاقت چھیننا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’یہ بی جے پی کی سازش ہے۔ جو کوئی بھی حد بندی کی حمایت کرتا ہے، وہ تمل ناڈو اور اس کے مستقبل کے ساتھ دھوکہ کر رہا ہے۔ ایسے لوگ آر ایس ایس و بی جے پی کو تمل ناڈو کے لوگوں اور ان کے مستقبل پر حملہ کرنے کا موقع دے رہے ہیں۔‘‘There is an attempt by the BJP to carry out delimitation. Delimitation is designed to disenfranchise and take away power from the people of Tamil Nadu. This is a BJP conspiracy.Anyone who supports delimitation is betraying Tamil Nadu. They are betraying the future of Tamil… pic.twitter.com/agb0xCvOkX— Congress (@INCIndia) August 1, 2026راہل گاندھی نے میڈیا اہلکاروں سے بات کرتے ہوئے ’ایٹپن‘ نامی شخصیت کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جو بھی آر ایس ایس-بی جے پی کی حمایت کر رہا ہے، وہ شخص اکیسویں صدی کا ’ایٹپن‘ ہے۔ کسی بھی تمل شخص کو حد بندی کی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’ہر تمل شخص کو حد بندی کی مخالفت کرنی چاہیے۔ ہر تمل پارٹی اور ہر قومی پارٹی کو ایوان میں حد بندی کو شکست دینی چاہیے۔‘‘நாடளுமன்ற தொகுதிகளை திருத்தி அமைக்க பாஜக கொண்டு வர திட்டமிட்டு இருக்கும் சட்டத்தை ஆதரிக்கும் எவரும் தமிழ்நாட்டுக்கு மிகப்பெரிய துரோகத்தை செய்கிறார்கள். அவர்களை 21 ஆம் நூற்றாண்டு எட்டப்பர்கள் என்றே வரலாறு பதிவு செய்யும்Any political party or person who is supporting the BJP in… pic.twitter.com/yX5NuGiZJi— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) August 1, 2026واضح رہے کہ ’ایٹپن‘ تمل تاریخ کا ایک متنازعہ نام ہے۔ ایٹپن کو عام طور پر بہادر مجاہد آزادی ویر پانڈیا کٹبومن کے ساتھ دھوکہ کرنے والے شخص کے طور پر جانا جاتا ہے۔ اٹھارہویں صدی کے آخر میں انگریزوں اور مقامی پالیکر حکمرانوں کے درمیان جنگ چل رہی تھی۔ تاریخ کے مطابق ایٹپن نے کٹبومن کی سرگرمیوں کی جانکاری انگریزوں کو دی، جس سے انھیں گرفتار کرنے میں مدد ملی۔ 1799 میں کٹبومن کو انگریزوں نے پھانسی دے دی۔ اسی وجہ سے تمل ثقافت میں ’ایٹپن‘ نام دھوکہ کا متبادل بن گیا ہے۔ حالانکہ اس بارے میں مورخین کے درمیان الگ الگ رائے موجود ہیں۔