واشنگٹن(30 جولائی 2026): سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے واشنگٹن میں امریکی صدر اور نائب صدر جے ڈی وینس سے ہنگامی ملاقاتیں کی ہیں۔امریکی میڈیا ادارے ایگزیوس کے مطابق ان ملاقاتوں کا بنیادی مقصد سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا خصوصی پیغام امریکی قیادت تک پہنچانا تھا۔ملاقاتوں کے دوران سعودی وزیرِ دفاع نے امریکی نائب صدر کو خطے کی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھانے پر زور دے رہے ہیں، جبکہ سعودی عرب خطے میں کشیدگی میں کمی کا خواہاں ہے کیونکہ یہی سب کے لیے زیادہ سود مند راستہ ہے۔شہزادہ خالد بن سلمان نے مؤقف اپنایا کہ ایران نواز عراقی ملیشیاؤں کی جانب سے سعودی بنیادی ڈھانچے اور توانائی کی تنصیبات کو نشانہ بنا کر سرخ لکیر عبور کی گئی تھی، جس کے جواب میں سعودی عرب کو مجبوراً کارروائی کرنا پڑی۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ عراق میں کی گئی کارروائی کا مقصد ہرگز کشیدگی کو ہوا دینا نہیں تھا، تاہم مملکت اپنی سلامتی اور دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔سعودی وزیرِدفاع نےکہا کہ حوثیوں کے معاملے پر فی الحال امریکا کی مداخلت کی ضرورت نہیں۔ سعودی وزیرِدفاع نے یہ بھی کہا کہ حوثیوں کے ساتھ مذاکرات بھی جاری ہیں۔امریکا اور سعودی عرب کے عراق میں ایرانی پراکسیز کے ٹھکانوں پر حملے