سری لنکن عدالت نے 2019 کے ایسٹر دھماکوں کے کیس کا فیصلہ سنادیا

Wait 5 sec.

کولمبو(یکم اگست 2026): سری لنکا کی ایک عدالت نے سنہ 2019 کے ہولناک ایسٹر اتوار کے بم دھماکوں کے مقدمے کا طویل انتظار کے بعد فیصلہ سنا دیا ہے۔سری لنکا کی عدالت نے انٹیلی جنس وارننگز کے باوجود حملے روکنے میں ناکامی اور مجرمانہ غفلت برتنے پر ملک کے سابق انسپکٹر جنرل آف پولیس پجیتھ جے سندرا اور سابق دفاعی سیکریٹری ہیماسری فرنینڈو کو سزائے موت سنا دی ہے۔یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی جانب سے دی جانے والی ہدایات اور مقدمے کی دوبارہ سماعت کے بعد تین رکنی خصوصی ہائی کورٹ کے پینل نے اکثریتی فیصلے کی بنیاد پر سنایا گیا ہے۔مقدمے کی سماعت کرنے والے تین ججوں میں سے دو ججوں (چیف جج پريانتاج اور تھلاکارتنے بندارا) نے ملزمان کو مجرمانہ غفلت، فرائض سے غفلت برتنے اور قتل کے الزامات میں مجرم قرار دیا، جبکہ تیسرے جج نے اختلاف کرتے ہوئے انہیں بری کرنے کا حکم دیا۔استغاثہ نے عدالت کو بتایا کہ سیکیورٹی اداروں اور اعلیٰ حکام کو ان حملوں سے قبل ملکی اور غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی طرف سے واضح وارننگز موصول ہوئی تھیں کہ شدت پسند عناصر گرجا گھروں اور اہم سیاحتی ہوٹلوں کو نشانہ بنانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔عدالت میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ واقعے سے ایک روز قبل بھی اس حوالے سے اطلاع دی گئی تھی، تاہم ان اعلیٰ حکام نے اپنی پوزیشن اور ذمہ داری کے باوجود بروقت حفاظتی اقدامات نہیں کیے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ دونوں افسران کی مجرمانہ غفلت اور وقت پر کارروائی نہ کرنے کی وجہ سے یہ المیہ پیش آیا۔سانحہ 21 اپریل 2019 کا پس منظریاد رہے کہ 21 اپریل 2019 کو ایسٹر کے مقدس دن کے موقع پر سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو اور اس کے اطراف میں واقع تین گرجا گھروں اور تین نامور ہوٹلوں کو خودکش حملوں میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان ہم آہنگ خودکش دھماکوں کے نتیجے میں 45 غیر ملکیوں سمیت 279 افراد لقمہ اججل بنے تھے جبکہ 500 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے تھے۔