’بیرون ملک قوانین کی پیروی کرتے ہیں، ہندوستان میں کوڑا پھیلاتے ہیں‘ بامبے ہائی کورٹ کا شہریوں کے رویے پر اظہار ناراضگی

Wait 5 sec.

بامبے ہائی کورٹ نے ہندوستان میں عوام کے ذریعہ گندگی پھیلانے اور بیرون ممالک جا کر قوانین کی پیروی کرنے کی عادت پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ جسٹس جی ایس کلکرنی اور جسٹس آرتی ساٹھے کی بنچ نے جمعہ کے روز کہا کہ ’’لوگ بیرون ملک میں چاکلیٹ کا ریپر بھی کوڑے دان میں ڈالتے ہیں۔ لیکن ہندوستان میں لاپروائی کا عالم یہ ہے کہ سڑکوں پر کوڑا پھینک دیا کرتے ہیں۔‘‘ عدالت نے پوچھا کہ ’’کیا یہ آزادی اور جمہوریت کی قیمت ہے۔‘‘ کورٹ ’کانجرمارگ ڈمپنگ گراؤنڈ‘ کے قریب رہنے والے لوگوں کی صحت اور آلودگی سے متعلق عرضیوں پر سماعت کر رہا تھا۔کورٹ نے کہا کہ ’’اگر کوئی شخص صاف ستھرا ماحول چاہتا ہے تو معاشرے کے تئیں اس کی بھی ذمہ داریاں بنتی ہیں کہ وہ صاف صفائی پر خصوصی توجہ دے۔‘‘ بنچ نے کہا کہ سول حکام کو اس معاملے میں سخت کارروائی کرنی چاہئے۔ عدالت نے شہر کے ساحلوں پر پھیلے پلاسٹک کے کچرے کا بھی حوالہ دیا اور سوال اٹھایا کہ کیا ہم ایک مہذب معاشرے میں رہ رہے ہیں۔ کورٹ نے کہا کہ ممبئی کی اہم سڑکوں اور گلیوں میں روزانہ کوڑا پھیلا رہتا ہے۔ جس کی وجہ سے صحت اور صاف صفائی سے متعلق سنگین پریشانیاں پیدا ہوتی ہیں۔برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے ’سوچھ ممبئی، سندر ممبئی، آپلی ممبئی‘ لوگو کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ’’اس کا مقصد واضح ہے۔ لیکن شہریوں کی لاپروائی اور انتظامیہ کی تساہلی سے یہ مقصد پورا نہیں ہو پا رہا ہے۔ اس کے لیے ہر وارڈ میں صفائی کے نظام کو اثردار بنانا اشد ضروری ہے، تاکہ سڑکوں کو کوڑا پھینکنے کی جگہ نہیں بنایا جائے۔‘‘ بنچ نے راجا بائی ٹاور اور ہائی کورٹ بلڈنگ جیسے تاریخی مقامات کے قریب میونسپل کارپوریشن کے کوڑے والے ٹرکوں کی لاپروائی پر بھی فکر کا اظہار کیا۔ کورٹ نے کہا کہ ’’ان جگہوں پر آنے والے غیر ملکی سیاحوں کو بھی سڑکوں پر بکھرا ہوا کوڑا نظر آتا ہے۔‘‘ کورٹ نے میونسپل کارپوریشن کو ایک ہفتے کے اندر ٹھوس کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ورانہ کورٹ خود حکم جاری کرتے گا۔