نئی دہلی: کانگریس نے ایودھیا کے شری رام مندر میں چندے کی چوری، قیمتی زیورات کی خردبرد اور زمین کی خرید و فروخت میں بے ضابطگیوں کے الزامات کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) سے جانچ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ پارٹی کے سینئر رہنما اور راجیہ سبھا میں کانگریس کے نائب قائد پرمود تیواری نے کہا کہ معاملہ صرف چندے کی چوری تک محدود نہیں بلکہ شلا پوجن کے وقت سے ہی بے ضابطگیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔نئی دہلی میں کانگریس ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پرمود تیواری نے الزام لگایا کہ رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کے لیے زمین کی خریداری میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیاں ہوئیں۔ ان کے مطابق دو کروڑ روپے مالیت کی ایک زمین محض دس منٹ کے اندر 18 کروڑ روپے میں ٹرسٹ کو فروخت کی گئی، جبکہ ایک دوسرے معاملے میں 20 لاکھ روپے کی زمین کچھ ہی دیر بعد ڈھائی کروڑ روپے میں خریدی گئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایودھیا کے دس بڑے زمینی سودوں میں سے سات رام مندر سے متعلق تھے، جن میں سرکل ریٹ سے کئی گنا زیادہ قیمت ادا کی گئی۔کانگریس رہنما نے یہ بھی کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے رام مندر کی پران پرتشٹھا تقریب پر تقریباً 112 کروڑ روپے خرچ کیے گئے، جہاں پھولوں اور دیگر انتظامات پر معمول سے کئی گنا زیادہ رقم صرف کی گئی۔ ان کا الزام تھا کہ عقیدت مندوں کے نذرانوں میں شامل سونا، چاندی اور قیمتی زیورات میں بھی خردبرد ہوئی، انہیں پگھلا کر فروخت کیا گیا اور حاصل شدہ رقم کو شیئر بازار اور سٹے کے کاروبار میں لگایا گیا۔ تیواری نے دعویٰ کیا کہ ابتدائی جانچ میں صرف 40 دن کے دوران چندے کی چوری کے 70 واقعات سامنے آئے۔پرمود تیواری نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے سیاسی تحفظ کی وجہ سے شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ کے سابق جنرل سکریٹری چمپت رائے، خزانچی گووند گیری اور سابق ٹرسٹی انیل مشرا کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ انہوں نے موجودہ ایس آئی ٹی کو "فرضی" قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کی سربراہی ایسے شخص کو دی گئی ہے جو خود تحقیقات کے دائرے میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی بے ضابطگی نہیں ہوئی تو چمپت رائے اور انیل مشرا کو اپنے عہدوں سے استعفیٰ کیوں دینا پڑا۔کانگریس رہنما نے یہ بھی کہا کہ چونکہ شری رام جنم بھومی تیرتھ کشیتر ٹرسٹ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مرکزی حکومت نے تشکیل دیا تھا، اس لیے اس معاملے کی اخلاقی اور سیاسی ذمہ داری بھی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔