پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے دوران بڑا اپڈیٹ سامنے آیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اس اجلاس میں ’ون نیشن، ون الیکشن‘ سے متعلق بل پیش نہیں کیا جائے گا، اس لیے اس پر بحث بھی نہیں ہوگی۔ ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس بل کا جائزہ لینے کے لیے قائم مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کو اپنی رپورٹ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے آخری ہفتے کے پہلے دن تک پیش کرنی ہوگی۔واضح رہے کہ مانسون اجلاس کے آغاز سے ہی قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں کہ حکومت اس دوران ’ون نیشن، ون الیکشن‘ بل پیش کر سکتی ہے، لیکن اب واضح ہو گیا ہے کہ اس سے متعلق آئینی ترمیمی بل موجودہ اجلاس میں پیش نہیں کیا جائے گا۔ اس بل کی جانچ کے لیے تشکیل دی گئی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کی مدت کار میں بھی توسیع کر دی گئی ہے، جس کے بعد کمیٹی اپنی رپورٹ سرمائی اجلاس کے آخری ہفتے کے پہلے دن تک پیش کرے گی۔ جے پی سی کی مدت کار میں توسیع کے بعد یہ بھی واضح ہو گیا ہے کہ کمیٹی موجودہ مانسون اجلاس کے دوران اپنی رپورٹ پیش نہیں کرے گی۔ ایسے میں ’ون نیشن، ون الیکشن‘ بل پر آئندہ کارروائی سرمائی اجلاس میں جے پی سی کی رپورٹ پیش ہونے کے بعد ہی آگے بڑھنے کا امکان ہے۔’ون نیشن، ون الیکشن‘ کا مطلب لوک سبھا اور تمام ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات ایک ہی وقت میں کرانے کا نظام ہے۔ اس وقت ملک میں لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات مختلف اوقات میں ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ کئی ریاستوں میں بلدیاتی انتخابات بھی الگ الگ وقت پر منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس تجویز کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ایک ساتھ انتخابات کرانے سے بار بار نافذ ہونے والے ضابطۂ اخلاق کے اثرات کم ہوں گے۔ اس کے ساتھ ہی انتخابی اخراجات اور انتظامی وسائل پر پڑنے والا بوجھ بھی کم ہو سکتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اس سے حکومتوں کو پالیسی سازی اور ترقیاتی منصوبوں پر زیادہ وقت اور توجہ دینے کا موقع ملے گا۔قابل ذکر ہے کہ ’ون نیشن، ون الیکشن‘ تجویز پر عمل درآمد کرنے سے قبل کئی پیچیدہ سوالات کا حل تلاش کرنا ضروری ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی ریاستی حکومت یا مرکزی حکومت کی مدت کار مقررہ وقت سے پہلے ختم ہو جائے تو انتخابات کا شیڈول کیسے طے کیا جائے گا؟ کیا نئی حکومت کو صرف باقی ماندہ مدت کار کے لیے ہی کام کرنے کا موقع دیا جائے گا؟ اس کے علاوہ لوک سبھا اور ریاستی اسمبلیوں کی مدت کار میں تبدیلی، آئینی دفعات میں ترمیم اور الیکشن کمیشن کی تیاریوں جیسے اہم امور پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر اس بل کی جانچ اور اس پر غور و خوض کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔