ایرانی حملوں میں کسی ایف 35 یا دیگر طیارے کو نقصان نہیں پہنچا، امریکا

Wait 5 sec.

سینٹ کام نے ایرانی سرکاری میڈیا اور آئی آر جی سی (پاسداران انقلاب) کے تین دعوؤں کو مسترد کر دیا۔سینٹ کام کے مطابق  آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کو خطرہ آئی آر جی سی کی دھمکیوں اور حملوں سے ہے تاہم ایرانی حملوں میں کسی امریکی ایف 35 یا دیگر طیارے کو نقصان نہیں پہنچا، تمام ایرانی میزائل اور ڈرون ہدف تک پہنچنے سے پہلے تباہ یا ناکام ہو گئے۔ سینٹ کام نے کہا کہ ایم ٹی نورا نے امریکی ناکہ بندی نہیں توڑی، ایرانی دعویٰ غلط ہے، اس وقت 20 سے زائد امریکی جنگی جہاز، سیکڑوں طیارے اور ہزاروں اہلکار ناکہ بندی پر تعینات ہیں، امریکی بحری ناکہ بندی مکمل طور پر نافذ ہے۔ایرانی حملوں میں تباہ ہونے والے امریکی فوجی اثاثوں کی تفصیلات جاریایرانی حملےایرانی پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے امریکا کے خلاف جوابی کارروائیوں کے دوران شدید نقصان اٹھانے والے امریکی فوجی اثاثوں کی تفصیلات جاری کر دی ہیں۔آئی آر جی سی کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کے مطابق 8 جولائی سے 22 جولائی تک جاری رہنے والے پندرہ روزہ طاقتور ایرانی حملوں میں امریکی عسکری تنصیبات کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔ترجمان کا کہنا ہے کہ ریڈار اور فضائی دفاعی شعبے میں 7 کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، 3 سیٹلائٹ مواصلاتی سسٹمز، پیٹریاٹ ڈیفنس کے 6 ریڈار، ابتدائی وارننگ اور نگرانی کے متعدد ریڈار سسٹمز کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد پیٹریاٹ نظام کو اس حد تک کمزور کر دیا گیا ہے کہ اب ایرانی میزائل اور ڈرون بغیر کسی رکاوٹ کے اپنے اہداف تک پہنچ رہے ہیں۔ترجمان کے مطابق لاجسٹک اور معاونت کے شعبے میں لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی مرمت کے 6 مراکز، 3 سپورٹ اور لاجسٹک تنصیبات، ایندھن کے 12 بڑے ذخائر، ہتھیاروں اور اسپیئر پارٹس کے 17 گودام اور میزائلوں کے 6 ذخیرہ خانے تباہ کیے گئے تاکہ امریکی آپریشنل صلاحیتوں کو کمزور کیا جا سکے۔آپریشنل انفرااسٹرکچر کے شعبے میں ایم کیو-9 ڈرونز کے 6 ہینگرز، ایف-15 لڑاکا طیاروں کی تیاری کی تنصیب، 8 نئے ڈرونز پر مشتمل ہینگر، طیارہ بردار جہاز کا رلنگ پلیٹ فارم، پی-8 طیارے کا ہینگر، ہیمارس میزائل پلیٹ فارمز، پیٹریاٹ ڈیفنس کے 4 کمپلیکسز اور ایمیزون سے وابستہ مصنوعی ذہانت کا مرکز اور ڈیٹا پروسیسنگ ہب بھی شدید نقصان کا شکار ہوئے۔