واشنگٹن (02 اگست 2026): سعودی ولئ عہد محمد بن سلمان نے ہفتے کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات کی ہے اور ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر نئے حملے کرنے کے اُن کے منصوبوں پر تشویش کا اظہار کیا۔امریکی نیوز ویب سائٹ ایکسیوس نے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی ولئ عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے امریکی صدر ٹرمپ سے ٹیلیفونک رابطہ کر کے کہا کہ ایران پر فوجی کارروائی کی بہ جائے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی جائے۔ایک امریکی عہدیدار نے ایکسیوس کو بتایا کہ ’’سعودیوں نے تشویش کا اظہار کیا اور لائحۂ عمل کے بارے میں وضاحت طلب کی۔‘‘ ایک اور عہدے دار نے کہا کہ ایم بی ایس نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ کشیدگی کم کریں اور حملے کرنے سے گریز کریں۔واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ آنے والے دنوں میں ایرانی توانائی کے اہداف کو نشانہ بنانے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ یہ کارروائی اردن میں ایک امریکی اڈے پر ایران کے میزائل حملے اور آبنائے ہرمز کے راستے بحری جہازوں کی آمدورفت میں ایران کی مسلسل رکاوٹ کے جواب میں کی جا سکتی ہے۔ تاہم، انھوں نے ابھی تک کسی نئے حملے کے حتمی احکامات جاری نہیں کیے۔ٹرمپ ایران سے کیوں خفا ہیں؟ امریکی صدر نے وجہ بتا دیتاہم کوئی شدید حملہ 5 ماہ سے جاری جنگ میں غیر معمولی شدت پیدا کر سکتا ہے، اس جنگ میں ٹرمپ کی جانب سے مذاکرات کا راستہ کھولنے کے باعث متعدد مرتبہ وقفہ آیا، لیکن سفارتی کوششیں ناکام ہونے پر جنگ دوبارہ شروع ہو گئی۔ ایران نے دھمکی دی ہے کہ وہ اسرائیل اور خلیجی ممالک میں توانائی اور بنیادی ڈھانچے کی تنصیبات پر حملے کر کے جوابی کارروائی کرے گا۔ٹرمپ نے بدھ کے روز سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے ملاقات کی تھی، جنھوں نے ایران کی جنگ اور خطے کی وسیع تر صورتِ حال کے بارے میں انھیں ایم بی ایس کا مؤقف پہنچایا تھا۔ گزشتہ پانچ ماہ کے دوران کشیدگی کے مختلف ادوار کے باوجود، جنگ شروع ہونے کے بعد سے ریاض نے کئی اہم مواقع پر ٹرمپ کی ایران پالیسی پر اثر ڈالا ہے۔قطر، متحدہ عرب امارات، ترکی اور پاکستان سمیت خطے کی دیگر طاقتیں بھی امریکا اور ایران پر کشیدگی کم کرنے کے لیے زور دے رہی ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کے روز پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے بھی بات کی ہے۔ عراقچی نے ترکی اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ سے بھی امریکی حملوں کے امکان پر بات کی۔