طبی شعبے میں تاریخی کامیابی: صفدرجنگ اسپتال میں ہوئی دنیا کی پہلی روبوٹک اے وی والو ریپلیسمنٹ سرجری

Wait 5 sec.

نئی دہلی میں واقع وی ایم ایم سی اور صفدر جنگ اسپتال کے ڈاکٹروں نے دنیا میں پہلی بار ایک انتہائی نایاب پیدائشی دل کی بیماری میں مبتلا بالغ مریض کا روبوٹک تکنیک سے کامیاب آپریشن کیا ہے۔ اس کامیابی کو عالمی طبی دنیا میں ایک تاریخی قدم مانا جا رہا ہے۔ اسپتال کی ڈائریکٹر ڈاکٹر کویتا شرما کی قیادت میں کارڈیوتھوریسک اینڈ ویسکولر سرجری (سی ٹی وی ایس) شعبے کی ٹیم نے یہ پیچیدہ سرجری کامیابی سے مکمل کی۔ آپریشن کی قیادت شعبے کے سربراہ پروفیسر (ڈاکٹر) انوبھو گپتا نے کی۔ خاص بات یہ ہے کہ اس طرح کی روبوٹک سرجری دنیا میں پہلی بار کی گئی ہے اور اس سے ہندوستان کا نام عالمی طبی شعبے میں مزید مضبوط ہوا ہے۔واضح رہے کہ جس مریض کا آپریشن کیا گیا وہ 2 انتہائی نایاب پیدائشی دل کی بیماریوں میں مبتلا تھا۔ پہلی بیماری کنجینٹلی کریکٹڈ ٹرانسپوزیشن آف دی گریٹ آرٹریز(سی سی ٹی جی اے) تھی، جس میں دل کے نچلے حصے عام پوزیشن کے برعکس ہوتے ہیں۔ اس وجہ سے دل کے دائیں حصے کو پورے جسم میں خون پہنچانے کا اضافی دباؤ جھیلنا پڑتا ہے۔ دوسرا مسئلہ ڈیکسٹروکارڈیا تھا، جس میں دل عام طور پر بائیں جانب ہونے کے بجائے دائیں جانب واقع ہوتا ہے۔ ان دونوں حالتوں کی وجہ سے مریض کے دل کا اے وی والو شدید طور پر خراب ہو چکا تھا اور دل کی کام کرنے کی صلاحیت بھی مسلسل کم ہوتی جا رہی تھی۔ اس چیلنجنگ سرجری کے لیے ڈاکٹروں نے پہلے مریض کے سی ٹی اسکین کی تھری-ڈی امیج تیار کی، تاکہ دل کی پیچیدہ بناوٹ کو پوری طرح سمجھا جا سکے۔ اس کے بعد آپریشن کا تفصیلی منصوبہ بنایا گیا۔عام طور پر روبوٹک ہارٹ سرجری سینے کے دائیں جانب سے کی جاتی ہے، لیکن اس مریض کا دل دائیں طرف ہونے کی وجہ سے ڈاکٹروں نے پوری تکنیک کو تبدیل کرتے ہوئے بائیں جانب سے روبوٹک سرجری کی۔ یہ طریقہ پوری طرح نیا تھا اور طبی تاریخ میں پہلی بار اپنایا گیا۔ سرجری کے دوران ڈاکٹروں نے سینے کی ہڈی کاٹنے کے بجائے چھوٹے چھوٹے سوراخوں کے ذریعے روبوٹک آلات اور ہائی ڈیفینیشن تھری-ڈی ویژول سسٹم کا استعمال کیا۔ اس سے انتہائی درست طریقے سے والو کو تبدیل کیا گیا اور آپریشن کامیاب رہا۔ اس جدید تکنیک کے کئی فائدے ہیں۔ مریض کے سینے کی ہڈی نہیں کاٹنی پڑتی، جس سے درد کم ہوتا ہے۔ خون کا ضیاع بھی بہت کم ہوتا ہے اور انفیکشن کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مریض پہلے کے مقابلے میں کافی جلدی صحت یاب ہو کر عام زندگی میں لوٹ سکتا ہے۔ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ کامیابی صرف ایک کامیاب سرجری نہیں، بلکہ ہندوستان کے سرکاری اسپتالوں کی بڑھتی ہوئی صلاحیت اور جدید طبی تکنیک کا ثبوت ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ ملک کے سرکاری اداروں میں عالمی معیار کا علاج اور جدید ترین روبوٹک سرجری کی سہولیات دستیاب ہیں۔ یہ تاریخی کامیابی آنے والے وقت میں دل کے پیچیدہ امراض کے علاج کے لیے نئی راہ کھولے گی۔ ساتھ ہی دنیا بھر کے سرجنوں کے لیے یہ ایک نئی تکنیک اور تحقیق کی بنیاد بھی ثابت ہوگی۔