نئی دہلی: ’ایف آئی ایچ ہاکی عالمی کپ 2026‘ کے آغاز سے قبل ہندوستانی ٹیم کی جرسی کے رنگ پر بڑا تنازعہ شروع ہو گیا ہے۔ ہندوستانی ہاکی ٹیم کی جرسی کا رنگ بھگوا کیے جانے پر کانگریس کی رکن پارلیمنٹ پرینکا گاندھی واڈرا نے حکومت پر سخت تنقید کی ہے۔ پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’چاہے وہ جرسی کا رنگ تبدیل کریں یا تعلیمی پالیسی کے ذریعہ تاریخ کو پھر سے لکھنے کی کوشش کریں، وہ چاہے جو بھی کریں... آپ نے دیکھا ہے کہ ہمارے ملک کے نوجوان کیا سوچتے ہیں۔ آپ نے جنتر منتر پر متحد نوجوانوں کی باتیں سنی ہیں۔ یہ ملک کی آواز ہیں۔‘‘ پرینکا گاندھی نے مزید کہا کہ ’’ عدم تشدد اور سچائی پر اس ملک کی جنگ آزادی کی بنیاد رکھی گئی۔ اس میں آر ایس ایس کا کوئی کردار نہیں تھا۔ پورا ملک اس حقیقت کو جانتا ہے۔ جن لوگوں کو نہیں پتہ تھا، انہیں آج پتہ چل چکا ہے کہ ان کی نیت کیا ہے۔‘‘“They may try to rewrite history through dress codes and education policies but everyone knows what our youth thinks.RSS was nowhere in India's Freedom struggle.”-: Congress MP Priyanka Vadra on Hockey India changing team jersey from blue to saffron pic.twitter.com/dN4bV0mxh7— News Arena India (@NewsArenaIndia) July 30, 2026قابل ذکر ہے کہ دہائیوں سے نیلی جرسی میں کھیلنے والی ہندوستانی ہاکی ٹیم اب عالمی کپ میں زعفرانی (بھگوا) رنگ کا لباس پہنے ہوئے نظر آئے گی۔ ہاکی انڈیا کے اس فیصلے نے کھیل کی دنیا میں ایک نئی بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ سب سے زیادہ کھل کر مخالفت کرنے والوں میں ہندوستان کے سابق کپتان ویرین راسکنہا ہیں۔ ہندوستانی ہاکی کے سینئر اور تجربہ کار کھلاڑیوں میں شمار کیے جانے والے ویرین راسکنہا نے سوشل میڈیا پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے ’ایکس‘ پر لکھا ہے کہ ’’مجھے یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ ہاکی انڈیا نے ہندوستان کے لیے کئی اچھے کام کیے ہیں، لیکن یہ فیصلہ شرمناک ہے۔ ہندوستانی ٹیم کی وراثت اور شناخت ہمیشہ نیلی جرسی رہی ہے۔ میں نے کئی برسوں تک فخر کے ساتھ نیلی جرسی پہنی ہے۔ مداح بھی ہندوستانی ٹیم کو نیلی جرسی میں دیکھنا چاہتے ہیں۔ آخر نارنگی (بھگوا) رنگ کا جواز کیا ہے۔‘‘ویرین راسکنہا کا ماننا ہے کہ ’’ہندوستانی ہاکی ٹیم کی نیلی جرسی صرف ایک رنگ نہیں، بلکہ دہائیوں سے اس کی پہچان ہے۔ اولمپکس سے لے کر عالمی کپ اور ایشیائی کھیلوں تک ہندوستانی ٹیم کو اسی رنگ میں دنیا نے دیکھا ہے۔ ایسے میں عالمی کپ جیسے بڑے ٹورنامنٹ سے ٹھیک پہلے جرسی کا رنگ تبدیل کرنے کا فیصلہ کئی سابقہ کھلاڑیوں اور مداحوں کو حیران کر رہا ہے۔‘‘ ویرین راسکنہا کا تبصرہ اس لیے بھی اہم مانا جا رہا ہے کہ انہوں نے ہندوستانی ہاکی کے سنہری دور کا حصہ رہتے ہوئے ہندوستانی ہاکی ٹیم کی قیادت کی۔ ’راسکنہا جونیئر عالمی کپ 2001‘ جیتنے والی ہندوستانی ٹیم کے رکن رہے۔ اس کے بعد انہوں نے سینئر ٹیم کی کپتانی بھی کی۔ انہوں نے ایتھنز اولمپکس 2004، مینس ہاکی عالمی کپ 2006 اور چیمپئنز ٹرافی ٹورنامنٹ میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔ انہیں اپنے دور کے بہترین مڈفیلڈر میں شمار کیا جاتا ہے۔I must say that @TheHockeyIndia has done many good things for . But this is embarrassing. The legacy & identity of the Indian team has always been BLUE. I wore the Blue jersey with pride for many years. Fans want to see our Indian team in blue. What is the logic of orange? https://t.co/apDnJkTld4— Viren Rasquinha (@virenrasquinha) July 29, 2026اس تنازعہ کے درمیان ہندوستانی ہاکی ٹیم عالمی کپ کی تیاریوں میں مصروف ہے۔ ہیڈ کوچ کریگ فلٹن ٹیم کی حکمت عملی، فٹنیس اور ذہنی طاقت پر مسلسل کام کر رہے ہیں۔ حال ہی میں کپتان ہرمن پریت سنگھ کی قیادت میں ہندوستانی ٹیم نے سوئٹزرلینڈ میں پیڈی اپٹن کے ساتھ 3 دنوں کا خصوصی تربیتی کیمپ لگایا تھا۔ اس کے علاوہ ٹیم پنالٹی کارنر، سیٹ پیس اور میچ فٹنس پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ بلجیم اور نیدرلینڈ میں ہونے والے ’ایف آئی ایچ ہاکی عالمی کپ 2026‘ میں ہندوستانی ٹیم کا ہدف تاریخ رقم کرنا ہوگا۔ ہندوستان نے صرف ایک عالمی کپ خطاب 1975 میں جیتا تھا۔ یعنی تقریباً 50 برسوں کے بعد ہندوستانی ٹیم عالمی چیمپئن بننے کا خواب لے کر میدان میں اترے گی۔