روس کی راجدھانی ماسکو کے وسط میں واقع ایک ریستوران میں ہفتے کے روز ہونے والے دھماکے میں کم از کم 3 افراد ہلاک ہو گئے۔ روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’آر آئی اے نوووستی‘ کی رپورٹ کے مطابق اس دھماکے میں کم از کم 21 افراد زخمی ہوئے ہیں۔ تحقیقاتی اہلکار، فرانزک ماہرین اور ایمرجنسی سروس کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر کام کر رہی ہیں۔ ’ماسکو انویسٹیگیٹو کمیٹی‘ نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں اور زخمیوں کی درست تعداد کا تعین کیا جا رہا ہے، ساتھ ہی ماسکو کے ’کودرِنسکایا اسکوائر‘ میں پیش آنے والے اس حادثے کے حالات کی بھی تفتیش کی جا رہی ہیں۔Reuters reports - "A homemade bomb carried by a woman killed three people and injured at least 21 in an explosion near an upscale restaurant in central Moscow on Saturday evening, the authorities said. Russia's Anti-Terrorism Committee said that an unidentified woman had tried to… https://t.co/CoID73AYsj pic.twitter.com/liNw09wL9x— ANI (@ANI) August 1, 2026ابتدائی میڈیا رپورٹس میں کہا جا رہا تھا کہ ’یہ دھماکہ گیس سلینڈر پھٹنے کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ لیکن اب انکشاف ہوا ہے کہ ایک خاتون اپنے ساتھ دیسی ساختہ بم لے کر وہاں پہنچی تھی، جس کے پھٹنے سے یہ دھماکہ ہوا۔ ماسکو پولیس نے بتایا کہ یہ دھماکہ مقامی وقت کے مطابق رات تقریباً 8 بجے سے کچھ پہلے ’بالجی روسی‘ نام کے اطالوی ریستوران کے قریب ہوا۔ اس زور دار دھماکے میں بم لے کر جا رہی خاتون اور ریستوران کے ایک سیکورٹی گارڈ اور وہاں موجود ایک صارف کی موقع پر ہی موت ہو گئی۔ جب کہ بم دھماکے میں زخمی ہوئے 21 افراد کا اسپتال میں علاج جاری ہے۔ زخمیوں میں سے کئی افراد کی حالت انتہائی نازک بتائی جا رہی ہے۔ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ بم ریستوران کے سمر ٹیرس پر موجود مہمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ بم کو کسی دوسرے شخص نے ریموٹ کنٹرول کے ذریعے بلاسٹ کیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ بم لے جانے والی خاتون کو اس بات کا علم ہی نہ ہو کہ اس کے پاس کوئی دھماکہ خیز مواد موجود ہے۔ ریستوران کی ویب سائٹ کے مطابق ہفتے کے روز ایک نجی تقریب کی وجہ سے ریستوران عام صارفین کے لیے بند رکھا گیا تھا۔ ورنہ ہلاکتوں کی تعداد زیادہ ہو سکتی تھی۔ فی الحال پولیس اور تحقیقاتی ٹیمیں واقعے کے تمام پہلوؤں کی باریک بینی سے تفتیش کر رہی ہیں۔