ایران میں 22 سالہ ریپر کو سزائے موت، 2 مزید افراد کو پھانسی

Wait 5 sec.

تہران (29 جولائی 2026): ایران میں 22 سالہ ریپر مہنام نواب صفوی کو سزائے موت سنا دی گئی، جب کہ قتل کے الزامات پر 2 مزید افراد کو پھانسی دے دی گئی۔ایران انٹرنیشنل کے مطابق حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کے دوران جنوری میں گرفتار کیے جانے والے 22 سالہ ریپر کو سزائے موت سنا دی گئی۔کیس سے واقف ایک ذریعے کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مہنام نواب صفوی کو اصفہان کی ایک انقلابی عدالت نے عوامی املاک کو نقصان پہنچانے میں مبینہ طور پر شریک ہونے کے الزام میں ’’خدا کے خلاف جنگ‘‘ (محاربہ) کا مرتکب قرار دیتے ہوئے مجرم ٹھہرایا۔رپورٹ کے مطابق مہنام نواب صفوی حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کرنے، اجتماع کرنے اور ملی بھگت کے الزامات میں بھی مجرم قرار دیا گیا ہے۔نواب کے 2 وکیل تھے، لیکن دونوں میں سے کسی کو بھی نہ تو مقدمے کی فائل کا جائزہ لینے کی اجازت دی گئی اور نہ ہی عدالت میں ان کا دفاع کرنے دیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کا مقدمہ ان کی عدم موجودگی میں چلایا گیا۔ابوالفضل سپاہی بادجانی اور امیر حسین صفری حسین‌ آبادی کو پھانسیابوالفضل سپاہی بادجانی اور امیر حسین صفری حسین‌ آبادیروئٹرز کے مطابق ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ منگل کو جنوری میں ملک گیر احتجاجی مظاہروں میں کردار ادا کرنے کے الزام میں مزید 2 افراد کو پھانسی دے دی گئی۔عدلیہ کے خبر رساں ادارے میزان کے مطابق، ابوالفضل سپاہی بادجانی اور امیر حسین صفری حسین‌ آبادی پر 8 جنوری کو اصفہان کے علیخانی چوک میں سیکیورٹی فورس کے 4 اہلکاروں کے قتل میں حصہ لینے کا الزام تھا۔واضح رہے کہ ملک گیر حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں کو اسلامی جمہوریہ ایران کی تاریخ کے سب سے بڑے کریک ڈاؤن کے ذریعے کچلا گیا تھا، جس کے دوران سیکیورٹی فورسز نے ہزاروں مظاہرین کو ہلاک کیا۔اقوام متحدہ کے ماہرین کے ایک پینل نے پیر کو، ان دونوں افراد کو پھانسی دیے جانے سے قبل، ایک پریس بیان میں کہا تھا کہ جنوری کے احتجاجی مظاہروں سے متعلق جرائم کے الزام میں کم از کم 24 افراد کو پھانسی دی جا چکی ہے۔سپاہی بادجانی اور صفری حسین‌آبادی کو سرِعام پھانسی دی گئی۔ میزان نے یہ نہیں بتایا کہ پھانسی کہاں دی گئی، تاہم ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر نے کہا کہ یہ سزائیں علیخانی چوک میں لوگوں کے ایک گروہ کی موجودگی میں نافذ کی گئیں۔اقوام متحدہ کے ماہرین کے مطابق، علیخانی چوک کے مقدمے میں ملوث قرار دیے گئے کم از کم 12 افراد کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔ میزان کے مطابق ان میں سے دو، عرفان اسفندیاری اور گل محمد محمدی کو 19 جولائی کو پھانسی دی جا چکی ہے۔اقوام متحدہ کے ماہرین نے کہا کہ ان 12 افراد کو ایک ہی سماعت میں، بند کمرۂ عدالت میں، اور ہر ملزم کی انفرادی ذمہ داری واضح کیے بغیر سزائے موت سنائی گئی، جو ماہرین کے مطابق منصفانہ ٹرائل کے تقاضوں کی خلاف ورزی ہے۔ہیومن رائٹس واچ نے اس ہفتے کہا کہ گزشتہ چار ماہ کے دوران کم از کم 50 افراد کو ان الزامات کے تحت پھانسی دی جا چکی ہے جنھیں اس تنظیم نے مبہم قومی سلامتی کے الزامات قرار دیا۔کینیڈا کی سزائے موت کی مذمتکینیڈا نے منگل کو ایران میں مظاہرین کو مسلسل دی جانے والی سزائے موت کی مذمت کرتے ہوئے تہران پر زور دیا کہ وہ اظہارِ رائے اور پُرامن اجتماع کی آزادی کا احترام کرے۔کینیڈا کی وزارتِ خارجہ نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ’’کینیڈا ایران میں مظاہرین کو مسلسل دی جانے والی سزائے موت کی دوٹوک الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ ایرانی عوام کو انتقامی کارروائی کے خوف کے بغیر اظہارِ رائے کی آزادی اور پُرامن اجتماع کے حق سے فائدہ اٹھانے کے لیے آزاد ہونا چاہیے۔‘‘