واشنگٹن (29 جولائی 2026): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو آڑے ہاتھوں لے لیا اور کہا کہ وہ مجھے ایران جنگ میں پھنسائے رکھنا چاہتا ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی ہے۔ اس اہم ملاقات سے قبل صدر ٹرمپ نے فاکس نیوز کو ٹیلیفونک انٹرویو میں نیتن یاہو پر الزامات عائد کیے۔صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم مجھے ایران جنگ میں پھنسائے رکھنا چاہتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ میں اس جنگ میں شامل رہوں۔انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو کو اگر ایران کی جوہری سرگرمیوں سے متعلق معلومات ہیں، تو وہ مجھے نہیں دنیا کو بتائے۔ مجھے اس کی معلومات کی ضرورت نہیں۔انٹرویو میں امریکی صدر یہ بھی کہا کہ ایران کے معاملے پر ہمارا مؤقف انتہائی سخت ہے، اس کی توانائی تنصیبات پر حملہ نہیں کرنا چاہتا۔انہوں نے کہا کہ اب ایران کو معاہدوں کی خلاف ورزی نہیں کرنے دیں گے، اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران میں مشن مکمل کریں گے۔امریکی صدر نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز پر ہمارا مکمل کنٹرول ہے، ایران کی جانب جانے والا ایک بھی جہاز امریکی ناکہ بندی عبور نہیں کر سکتا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کی، معاہدے کی خلاف ورزی پر ایران کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی۔مذاکرات کے حوالے سے امریکی صدر نے بتایا کہ مذاکرات صرف جوہری پروگرام پر ہو رہے ہیں، ایران بار بار اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹ جاتا ہے۔نیتن یاہو ایران سے متعلق کون سی "حساس معلومات” لے کر امریکا گئے ہیں؟