کیلیفورنیا کے لا اسکول پر ایشیائی طلبہ سے امتیاز کا الزام، امریکی محکمہ انصاف کی تحقیقات

Wait 5 sec.

واشنگٹن: امریکی محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ کیلیفورنیا کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، لاس اینجلس (یو سی ایل اے) کے لا اسکول نے 2023، 2024 اور 2025 میں داخلہ لینے والی جماعتوں کے لیے امیدواروں کے انتخاب میں نسل کو بنیاد بنا کر ایشیائی اور سفید فام طلبہ کے ساتھ امتیاز برتا۔ تاہم یو سی ایل اے لا اسکول نے اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا داخلہ عمل جامع اور میرٹ پر مبنی ہے۔محکمہ انصاف کے شہری حقوق ڈویژن کے مطابق اس کی تحقیقات میں یو سی ایل اے لا کے داخلہ طریقہ کار میں ایسی سرگرمیوں کا انکشاف ہوا جو 1964 کے سول رائٹس ایکٹ کے ٹائٹل 6 کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔ یہ قانون وفاقی مالی امداد حاصل کرنے والے اداروں میں نسل یا رنگ کی بنیاد پر امتیاز کی ممانعت کرتا ہے۔ محکمہ انصاف نے کہا کہ یو سی ایل اے کا طریقہ کار امریکی سپریم کورٹ کے 2023 کے اس فیصلے سے بھی متصادم تھا جس میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کے داخلوں میں نسل کو استعمال کرنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔محکمہ انصاف کی شہری حقوق ڈویژن کی سربراہ اور اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ہرمت کے ڈھلون نے الزام لگایا کہ یو سی ایل اے لا میں داخلوں کا ایسا نظام موجود تھا جس میں امیدوار کے تعلیمی معیار پر نسل کے مطابق مختلف معیار لاگو ہوتا تھا۔ ان کے مطابق کسی امیدوار کو اس کی نسل کی بنیاد پر فائدہ یا نقصان پہنچانا قانوناً ممنوع ہے۔محکمہ انصاف نے کہا کہ اس نے امریکی سپریم کورٹ کے 2023 کے ’اسٹوڈنٹس فار فیئر ایڈمیشنز بنام ہارورڈ‘ فیصلے کے بعد یو سی ایل اے لا کے داخلہ عمل کا جائزہ لیا۔ تحقیقات کے مطابق درخواست فارم میں ذاتی بیان اور مضامین سے متعلق ایسے سوالات شامل تھے جن سے امیدواروں کی نسلی شناخت سامنے آ سکتی تھی۔ محکمہ انصاف کا دعویٰ ہے کہ داخلہ عملے نے بھرتی سے متعلق بعض پروگراموں میں امیدواروں کو یہ بھی بتایا کہ وہ اپنی درخواست کے مختلف حصوں میں اپنی نسل کے بارے میں معلومات کس طرح ظاہر کر سکتے ہیں۔کیا ’فلائی دبئی‘ کے طیارہ کو یرغمال بنانے کی سازش نیتن یاہو نے کی؟ ٹرمپ کی دھمکی کے بعد ایران کے بیان سے نئی ہلچلمحکمہ نے یو سی ایل اے لا کے سالانہ ’ڈائیورسٹی ایڈمیشن اوپن ہاؤس‘ کو ایسی ہی سرگرمیوں کی مثال قرار دیا۔ اس کے علاوہ محکمہ انصاف کے تجزیے میں دعویٰ کیا گیا کہ کچھ ایشیائی اور سفید فام امیدواروں کو ایسے ایل ایس اے ٹی اسکور کے باوجود داخلہ نہیں دیا گیا جو داخلہ پانے والے سیاہ فام اور ہسپانوی امیدواروں کے برابر تھے۔محکمہ انصاف کے مطابق 2024 اور 2025 کے داخلوں کو ملا کر دیکھا جائے تو داخلہ پانے والے نصف سیاہ فام امیدواروں کے ایل ایس اے ٹی اسکور اس سطح پر یا اس سے کم تھے جس سطح پر داخلہ پانے والے 90 فیصد سفید فام امیدواروں کے اسکور تھے۔ یہ اعداد و شمار اور نتائج محکمہ انصاف کی اپنی تحقیقات اور تجزیے پر مبنی ہیں۔امریکہ میں وسط مدتی انتخاب سے قبل ایران پر حملہ کرنے کی تیاری کر رہے ٹرمپ! تازہ بیان سے نئی ہلچل شروعدوسری جانب یو سی ایل اے لا اسکول نے کہا ہے کہ وہ کیلیفورنیا کے آئین، پروپوزیشن 209، وفاقی قوانین اور امریکی آئین سمیت تمام قابل اطلاق قوانین کے مطابق داخلے کے فیصلے کرنے کے لیے پابند عہد ہے۔ اسکول کے مطابق ہر امیدوار کا جامع اور میرٹ پر مبنی جائزہ لیا جاتا ہے، جس میں اس کی کامیابیوں اور تجربات سمیت مختلف پہلوؤں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔محکمہ انصاف نے کہا ہے کہ وفاقی مالی امداد حاصل کرنے والے لا اسکولوں کو امتیاز مخالف وفاقی قوانین کی پابندی کرنا ضروری ہے۔ خلاف ورزی پائے جانے کی صورت میں محکمہ پہلے ادارے کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے داخلہ نظام کو قانون کے مطابق بنانے کی کوشش کرے گا۔ اگر کوئی سمجھوتہ نہ ہو سکا تو محکمہ عدالت میں مقدمہ دائر کر سکتا ہے۔