دہلی: چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج معاملے میں پولیس کی کارروائی، 3 ایف آئی آر درج

Wait 5 sec.

چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے استعفیٰ کے مطالبے کو لے کر دہلی، ممبئی، پٹنہ اور دیگر شہروں میں جمعہ (2 اکتوبر) کو زبردست احتجاج ہوا، جس میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ اس درمیان خبر ہے کہ دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کے معاملے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ پولیس کے مطابق جنتر منتر پر بغیر اجازت احتجاج کرنے کے معاملے میں نامعلوم افراد کے خلاف 3 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ ان میں ایک ایف آئی آر کناٹ پلیس تھانے میں، جبکہ 2 ایف آئی آر پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے میں درج کی گئی ہیں۔At least three FIRs have been registered by the Delhi Police in connection with the mass protest held near Jantar Mantar on October 2 against Chief Election Commissioner Gyanesh Kumar.Read here: https://t.co/1ksV8CmUox#FIR #JantarMantarProtest #CEC #DNA pic.twitter.com/4I1P9Kx9Fg— DNA (@dna) October 3, 2026افسران نے بتایا کہ ایف آئی آر میں بھارتیہ نیائے سنہتا (بی این ایس) کی دفعہ 223 کے تحت سرکاری ملازم کی جانب سے باقاعدہ طور پر جاری حکم کی نافرمانی کے الزامات درج کیے گئے ہیں۔ افسران کے مطابق ایف آئی آر بی این ایس کی دفعہ 163 کے تحت نافذ امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کے سلسلے میں درج کی گئی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ پہلی ایف آئی آر بی این ایس کی دفعہ 223 (اے)/ 221/132/ 3(5) کے تحت، دوسری ایف آئی آر بی این ایس کی دفعہ 223 (اے)/221/132/3(5) اور تیسری ایف آئی آر 223/221/132/3 (5) پی سی سی پی کے تحت درج کی گئی ہے۔اگرچہ ایف آئی آر میں مشتبہ افراد یا ملزمان کے کالم میں کسی فرد یا تنظیم کا نام نہیں ہے، لیکن احتجاج کی اپیل کرنے والے اور اس میں حصہ لینے والے منتظمین اور تنظیموں کا ذکر ایف آئی آر کے مندرجات میں ہے۔ بی این ایس کی دفعہ 223 کے تحت قصوروار پائے جانے والے شخص کو 6 ماہ تک کی جیل، 2500 روپے تک کا جرمانہ یا دونوں کی سزا ہو سکتی ہے۔ بی این ایس کی دفعات 223، 221، 132 اور 3(5) کے تحت امتناعی احکامات کی خلاف ورزی، سرکاری ملازمین کے کام میں رکاوٹ ڈالنے اور غیر قانونی اجتماع کرنے کے الزامات میں مقدمات درج کیے گئے ہیں۔’زندہ بھوتوں‘ کا احتجاج، یوتھ کانگریس کا چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہواضح رہے کہ جمعہ (2 اکتوبر) کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج طلبہ تنظیموں اور سیاسی جماعتوں نے منعقد کیا تھا۔ مظاہرین ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) میں بے ضابطگیوں کو لے کر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ تاہم پولیس نے مظاہرین کو جنتر منتر پہنچنے نہیں دیا تھا اور 1000 سے زیادہ لوگوں کو حراست میں لے لیا تھا۔ ان میں کئی رہنما بھی شامل تھے۔ پولیس کی جانب سے مجوزہ احتجاج کی اجازت نہ دیے جانے اور بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس)، 2023 کی دفعہ 163 کے تحت امتناعی احکامات نافذ کیے جانے کے بعد وسطی دہلی میں سخت سیکورٹی کے درمیان احتجاج ہوا۔ احتجاج کے دوران عام آدمی پارٹی (عآپ) کے رکن اسمبلی سوربھ بھاردواج سمیت کئی اپوزیشن رہنماؤں کو حراست میں لیا گیا۔کانگریس کے جنرل سکریٹری کے سی وینوگوپال نے کہا کہ کانگریس اور انڈیا بلاک کے رہنما گرفتاری کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ہندوستان کے الیکشن کمیشن کے ذریعے عام لوگوں کے ووٹ چھینے جا رہے ہیں۔ وینوگوپال نے کہا کہ ’’یہ ملک کی جمہوریت کو بچانے، عام آدمی کے ووٹ کو بچانے کے لیے ہے۔ وزیر اعظم مودی اور امت شاہ ہندوستان کے الیکشن کمیشن کے ذریعہ عام آدمی کا ووٹ چھین رہے ہیں۔ اس لیے یہ کانگریس پارٹی، انڈیا الائنس اور دیگر تمام اپوزیشن جماعتوں کے لیے کرو یا مرو کی لڑائی ہے۔ ہم ایسا ہونے نہیں دیں گے۔‘‘