جنتر منتر پر خاتون صحافی سے بدسلوکی پر حکومت جواب دے: راہل گاندھی

Wait 5 sec.

کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف  راہل گاندھی نے جنتر منتر پر ایک خاتون صحافی کے ساتھ پولیس اہلکار  کی بدسلوکی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اس معاملے پر جواب طلب کیا ہے۔ راہل  گاندھی نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ایک خاتون صحافی نے جنتر منتر پر ایک پولیس اہلکار پر بدسلوکی کا الزام لگایا ہے اور سیکڑوں صحافی کئی گھنٹوں سے صرف ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کو لے کر بیٹھے رہے، لیکن پولیس نے ایف آئی آر درج نہیں کی۔जंतर-मंतर पर एक महिला पत्रकार ने एक पुलिस अधिकारी पर बदसलूकी का आरोप लगाया है।घंटों से सैकड़ों पत्रकार सिर्फ़ इतनी माँग लेकर बैठे हैं कि FIR दर्ज कर ली जाए। ये तो पुलिस का बुनियादी काम है न? वो भी नहीं किया।आज ही जंतर-मंतर पर सैकड़ों लोग हिरासत में लिए गए। महिला… https://t.co/vYjsTtrrAH— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) October 3, 2026انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ جنتر منتر پر سیکڑوں لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے اور خواتین مظاہرین کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔ کیمرے چھینے گئے اور صحافیوں کو گھسیٹا گیا۔ راہل  گاندھی نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی ویڈیو شواہد کے ساتھ پولیس افسران کی جانب سے خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے معاملات سامنے آچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی خواتین اور طالبات اپنی سلامتی کو لے کر خوف زدہ ہیں اور ستیہ گرہ کر رہی ہیں، لیکن جس پولیس پر خواتین کی حفاظت کی ذمہ داری ہے، وہی خواتین پر ہاتھ اٹھا رہی ہے۔انہوں نے سوال کیا کہ جو حکومت ایک خاتون کی شکایت درج کرنے سے ڈرتی ہے، وہ آخر کس کی حفاظت کر رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ دہلی پولیس وزارت داخلہ کے ماتحت ہے اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو اس کا جواب دینا ہوگا۔