فرانس میں ہائی اسکول کے 1700 طلبہ گرفتار

Wait 5 sec.

پیرس: فرانس میں تعلیمی نظام کے خلاف ہائی اسکول طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے، گزشتہ 4 روز سے جاری احتجاج کے دوران طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئی ہیں۔جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں، مختلف علاقوں میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا، جب کہ 1700 سے زیادہ افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔احتجاج کے باعث ملک بھر میں 700 سے زیادہ اسکول بند ہیں، فرانس کے وزیر تعلیم کا کہنا ہے کہ طلبہ کی اس تحریک کو غیر طلبہ افراد اپنے مقصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔فرانس کی متعدد ٹریڈ یونینز نے بھی طلبہ کے احتجاج کی حمایت کر دی ہے، طلبہ کا کہنا ہے کہ اسکول کے اوقات بہت طویل، کلاس رومز بہت گرم ہیں اور عملے کے بیشتر ارکان غیر حاضر رہتے ہیں۔روئٹرز کے مطابق ہائی اسکول طلبہ متبادل اساتذہ کی تقرری، وسائل میں اضافے اور تعلیم کے بہتر ماحول کے مطالبے پر ملک گیر احتجاج کر رہے ہیں، بعض مقامات پر یہ احتجاج پرتشدد صورت اختیار کر گیا ہے۔صدر ایمانوئل میکرون کی حکومت کو کلاس رومز میں تدریسی حالات اور فنڈز کی فراہمی کے خلاف ہونے والے ان مظاہروں پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا ہے، جو بتدریج زیادہ پُرتشدد ہوتے جا رہے ہیں۔جی 7 کا ڈیزل کی قیمتوں میں کمی لانے سے متعلق بڑا اعلان، ٹرمپ کا اظہار تشکرمشرقی شہر اسٹراسبرگ کی سڑکوں پر جھڑپوں کے دوران آنسو گیس کے بادل چھائے رہے، جنوبی شہر مارسیلے میں پولیس کی صفوں کو آتش بازی کے پٹاخوں سے نشانہ بنایا گیا، جب کہ مغربی شہر رین میں کچرے کے ڈبوں کو آگ لگائی گئی۔پیرس کے مضافات میں واقع پینٹین میں مظاہرین نے باڑوں سمیت مختلف اشیا کو آگ لگا دی اور فسادات پر قابو پانے والی پولیس پر پٹاخے پھینکے، جس کے بعد وہ وہاں سے بھاگ گئے۔جمعرات کو حکومت کے ہنگامی اجلاس کے بعد وزیر اعظم کے قریبی ایک ذریعے نے کہا کہ مظاہرے احتجاجی تحریک سے تبدیل ہو کر شہری علاقوں میں پُرتشدد کارروائیوں کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ وزیر انصاف جیرالڈ درماناں نے بھی کہا ہے کہ ان مظاہروں کو ’’بیرونی عناصر‘‘ نے اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔وزیر تعلیم ایڈوار گیفرے نے بتایا کہ بدامنی کے دوران شعبۂ تعلیم کے 65 ملازمین زخمی ہوئے ہیں، جن میں 40 اسکولوں کے سربراہان بھی شامل ہیں۔ اساتذہ کی جانب سے بھی ہڑتال کا اعلان کر دیا گیا ہے۔