رام اللہ: غزہ میں محکمہ صحت کے حکام اور امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ شہر میں ایک رہائشی عمارت پر اسرائیلی فوج کے حملے کے نتیجے میں کم از کم پانچ فلسطینی شہید ہو گئے۔غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق غزہ کے محکمہ صحت کے حکام نے بتایا کہ گذشتہ اکتوبر جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی فوج کے حملوں میں کم از کم 1,400 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔اس سے قبل ایک بیان میں ترک صدر رجب طیب اردوان نے غزہ کو موت کا کیمپ اور دنیا میں بچوں کا سب سے بڑا قبرستان قرار دے دیا۔رجب طیب اردوان نے کہا کہ اسرائیلی حکومت غزہ پر قبضے کا خاتمہ کرنے سے انکاری ہے، اسرائیل غزہ معاہدے کے دوسرے مرحلے کی طرف بڑھنے سے انکار کر رہا ہے، اسرائیلی حکومت غزہ کیلیے ٹرمپ کے منصوبے میں رکاوٹ ڈال رہی ہے، فلسطینی علاقوں میں صورتحال انتہائی خطرناک ہے۔ترک صدر نے کہا کہ غزہ ہمارے دور کا انتہائی غیر انسانی اور شرمناک حراستی کیمپ بن چکا ہے، جنگ بندی کے بعد سے غزہ میں شہدا کی تعداد 1500 سے تجاوز کر گئی، اقوام متحدہ کا قیام امن و سلامتی کے تحفظ کیلیے عمل میں آیا تھا لیکن یہ اپنا کردار ادا کرنے کے قابل نہیں رہی اور اس کو کردار ادا کرنے سے روکا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ مغربی کنارہ آباد کاروں کے تشدد اور دہشتگردی کا شکار ہے، فلسطین میں مسلمان اپنے مقدس مقامات تک رسائی سے محروم ہیں، اسرائیلی دہشتگردی کے باعث غزہ میں 74 ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے، مغربی کنارے میں آباد کاروں کی جانب سے دہشتگردی کی جا رہی ہے۔غزہ : اسرائیلی فوج نے 15 سالہ امدادی کارکن کو شہید کردیارجب طیب اردوان نے کہا کہ مکہ اتحاد سعودی عرب، ترکیے اور پاکستان کے درمیان یکجہتی کو مضبوط کرتا ہے، پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی اتحاد سے یکجہتی کو مستحکم کر رہے ہیں۔