امریکا کی کارنیل یونیورسٹی میں 2024 میں ہونے والی 20 سالہ طالبہ کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے کیس میں دو سال بعد بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے۔یونیورسٹی میں طالبہ سے مبینہ اجتماعی زیادتی کے کیس میں نئے انکشافات کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے۔خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق طالبہ سے مبینہ زیادتی کے مقدمے میں نامزد 7 طلبا سے تفتیش کے دوران ان کے بیانات ایک دوسرے سے مختلف اور کئی مقامات پر متضاد پائے گئے ان انکشافات کے بعد تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوگیا اور جامعہ مزید تنقید کی زد میں آگئی۔کارنیل یونیورسٹی کی انتظامیہ نے طالبہ کی جانب سے ریپ کے سنگین الزامات سامنے آنے کے بعد کیمپس میں قائم طلبہ تنظیموں اور خواتین کی انجمنوں کے کردار کا ازسرنو جائزہ لینے کا اعلان کردیا۔اس حوالے سے آئیوی لیگ یونیورسٹی کے صدر مائیکل کوٹلکوف نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ یونیورسٹی مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے متعدد اقدامات کرے گی، جن میں کیمپس کی زندگی میں برادریوں اور طلبہ تنظیموں کے کردار پر سنجیدگی سے غور کرنا بھی شامل ہے۔یہ معاملہ گزشتہ ماہ ایک طالبہ کی جانب سے دائر کیے گئے دیوانی مقدمے کے بعد اس وقت شدت اختیار کرگیا جب اس طالبہ نے الزام عائد کیا کہ 2024 میں اسے نشہ آور شے دی گئی اور پھر نیویارک کے شہر ایتھاکا میں قائم کارنیل یونیورسٹی کے چی فائی برادری کے متعدد ارکان نے اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔طالبہ کی جانب سے دائر مقدمے میں کارنیل یونیورسٹی، چی فائی کے 7 ارکان اور دیگر افراد کو فریق بنایا گیا ہے۔ جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ یونیورسٹی نے بعض ملزمان کے خلاف مؤثر کارروائی نہیں کی، تاہم جن افراد پر الزامات عائد کیے گئے ہیں، انہوں نے کسی بھی غلط کاری سے انکار کیا ہے۔ترجمان کارنیل یونیورسٹی نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ اس نے اسی دوران معاملے کی جامع تحقیقات کیں اور چی فائی برادری کو کیمپس سے معطل کردیا تھا۔ ترجمان کے مطابق واقعے سے متعلق مختلف تادیبی اقدامات بھی کیے گئے، جن میں بعض طلبہ کو یونیورسٹی سے نکالنا بھی شامل ہے۔تاہم صدر مائیکل کوٹلکوف نے تسلیم کیا کہ یونیورسٹی کو اپنی کارروائیوں کا مزید جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ادارے کو مزید بہتر کام کرنا ہوگا اور وہ ان جوابات کی تلاش کے لیے پرعزم ہے۔صدر نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ طلبہ، سابق طلبہ اور دیگر متعلقہ افراد سے بھی ان کی رائے لے گی تاکہ کیمپس میں برادریوں کے مثبت پہلوؤں کو برقرار رکھا جاسکے تاہم اس کے ساتھ ہر فرد کی انفرادی ذمہ داری اور جواب دہی بھی یقینی بنائی جائے۔کارنیل میں سامنے آنے والے اس معاملے نے امریکا میں جامعات اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے جنسی زیادتی کی شکایات سے نمٹنے کے طریقہ کار پر بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔طلبہ کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ موجودہ نظام کیا واقعی متاثرین کے تحفظ اور شکایات کے مؤثر ازالے کے لیے کافی ہے۔امریکا کی ٹاپ یونیورسٹیز میں تعلیم کے خواہشمند پاکستانی طلبا کے لیے بڑی خبر