برسلز : (02 اکتوبر 2026): ترقی یافتہ ممالک کے گروپ جی سیون کے اراکین اضافی ذخائر سے 10 کروڑ بیرل تیل اور ڈیزل جاری کرنے پر متفق ہوگئے۔یہ فیصلہ امریکا کی جانب سے یورپی ممالک پر اپنے ڈیزل ذخائر مارکیٹ میں لانے کے لیے دباؤ ڈالے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ایران جنگ کے باعث امریکی دباؤ کے بعد ایندھن کی بڑھتی عالمی قیمتوں پر قابو پانے کی کوشش میں جی سیون ممالک نے بڑا فیصلہ کرلیا۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق جی سیون ممالک نے اضافی ذخائر سے مجموعی طور پر 10 کروڑ بیرل خام تیل اور ڈیزل جاری کرنے پر اتفاق کرلیا، جس کا مقصد ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کو قابو کرنے میں مدد دینا ہے۔رپورٹ کے مطابق جی سیون کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ رکن ممالک بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے ذریعے پہلے سے کیے گئے وعدوں کو مدنظر رکھتے ہوئے 10 کروڑ بیرل کے اجرا کا عمل شروع کریں گے جس کے چار ماہ تک جاری رہنے کی توقع ہے۔اعلامیے کے مطابق ان اضافی ذخائر سے ڈیزل پہلے مرحلے میں جاری کیا جائے گا اور جی سیون کے رکن ممالک اور شراکت داروں کی جانب سے ابتدائی 20 دن کے دوران ڈیزل کی بڑی مقدار مارکیٹ میں لائی جائے گی۔اس عمل کا آغاز فوری طور پر ہوگا اور یہ چار ماہ تک جاری رہے گا، جبکہ ابتدائی مرحلے میں ڈیزل کی نمایاں مقدار پہلے 20 دن کے دوران مارکیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔تاہم جی سیون نے یہ واضح نہیں کیا کہ 10 کروڑ بیرل میں خام تیل، ڈیزل اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کا الگ الگ حصہ کتنا ہوگا اور کون کون سے ممالک کتنی مقدار جاری کریں گے۔اعلامیے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضرورت پڑنے پر ڈیزل کے مزید ذخائر جاری کرنے کے امکان پر آنے والے دنوں میں آئی ای اے کے تحت بات چیت کی جائے گی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی سیون کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے سوشل میڈیا پیغام میں اے خوش آئید قرار دیا ہے۔رائٹرز کے مطابق امریکی انتظامیہ نے جرمنی اور فرانس پر اپنے ہنگامی ڈیزل ذخائر کم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک سے کہا گیا تھا کہ اگر وہ ذخائر میں کمی نہ کریں تو امریکا ممکنہ طور پر ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کرسکتا ہے۔جی سیون کے تازہ اعلامیے میں رکن ممالک نے ایک دوسرے کے درمیان توانائی کی مصنوعات کی برآمد پر پابندیاں عائد نہ کرنے کا عزم بھی ظاہر کیا ہے۔دوسری جانب عالمی ڈیزل مارکیٹ پہلے ہی سپلائی کے دباؤ کا شکار ہے۔ ایران جنگ کے باعث خلیجی خطے سے سپلائی متاثر ہوئی ہے جبکہ روس کی ڈیزل برآمدات پر پابندی اور چین کی جانب سے بعض ایندھن مصنوعات کی برآمدات محدود کیے جانے سے بھی عالمی مارکیٹ پر اضافی دباؤ پڑا ہے۔جی 7 ملکوں کا تیل کے اضافی ذخائر ریلیز کرنے پر غور