سعودی حکام کی مسجد الحرام میں خودکش بمبار کی موجودگی کی خبروں کی تردید

Wait 5 sec.

کہ مکرمہ : سعودی حکام نے مسجد الحرام سے خودکش بمبار کے گرفتار ہونے کی خبروں کی تردید کردی۔تفصیلات کے مطابق سعودی سیکیورٹی حکام نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ مکہ مکرمہ میں واقع مسجد الحرام سے ایک خودکش بمبار کو گرفتار کیا گیا ہے۔سعودی سیکیورٹی حکام کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مسجد الحرام میں کسی قسم کا خودکش بمبار یا حملہ آور نہیں پکڑا گیا۔اصل واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے سیکیورٹی ذرائع نے کہا کہ ایک شخص کو وہاں موجود لوگوں اور زائرین کو ہراساں کرنے اور خوف و ہراس پھیلانے کے جرم میں حراست میں لیا گیا تھا۔NEWS: Security authorities in Masjid Al Haram arrested a person for harassing passersby and causing fear and panic among them.The individual was dealt with immediately, the necessary legal procedures were taken against him, and he was referred to the Public Prosecution.… pic.twitter.com/RCgI9qBBig— Inside the Haramain (@insharifain) October 2, 2026سیکیورٹی اہلکاروں نے موقع پر ہی کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو فوری طور پر قابو کر لیا۔تمام ضروری قانونی مراحل مکمل کرنے کے بعد ملزم کو پبلک پراسیکیوشن کے سپرد کر دیا گیا ہے، جہاں اس کے خلاف مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔تاہم حکام نے فی الحال ملزم کی شناخت یا اس کی ذہنی حالت کے بارے میں تفصیلات عام نہیں کی ہیں۔FOLLOW US ON ARY TUBEسوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے منفی دعووں میں کہا جا رہا تھا کہ دھماکہ خیز جکٹ پہنے ایک شخص نے خانہ کعبہ کی طرف بڑھنے کی کوشش کی جسے سیکیورٹی اہلکاروں نے وقت پر پکڑ لیا۔سعودی حکام نے ان تمام رپورٹوں کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے عوام اور سوشل میڈیا صارفین پر زور دیا ہے کہ وہ ایسی غیر تصدیق شدہ افواہوں کو پھیلانے سے گریز کریں اور صرف اور صرف سرکاری ذرائع سے جاری کردہ باوثوق معلومات پر ہی اعتماد کریں۔