کرناٹک ایس آئی آر: مسلم ووٹرز کے نام حذف کرنے کے الزام میں بی جے پی لیڈران پر ایف آئی آر درج

Wait 5 sec.

کرناٹک میں جاری ایس آئی آر کے درمیان ایک بڑی پیش رفت دیکھنے کو مل رہی ہے۔ ایک طرف الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹ میں غلط دعووں اور اعتراضات کے عمل میں دھاندلی کو روکنے کے لیے علیحدہ مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے، دوسری طرف مسلم ووٹرز کے نام حذف کرنے کے الزام میں بی جے پی لیڈران پر ایف آئی آر درج کیے جانے کی اطلاع موصول ہو رہی ہے۔ایس آئی آر تنازعہ کے درمیان 20 ریاستوں میں چلائی جائے گی خصوصی مہم، الیکشن کمیشن نے اٹھایا بڑا قدمقابل ذکر ہے کہ الیکشن کمیشن نے کرناٹک کے چیف الیکٹورل افسر کو ہدایت دی ہے کہ ووٹر لسٹ سے متعلق فرضی دعوے اور اعتراضات داخل کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ اس ہدایت کے پیش نظر کرناٹک پولیس نے بیلگاوی ضلع میں جاری ایس آئی آر کے دوران فارم-7 درخواست کا استعمال کرتے ہوئے 198 مسلم ووٹرز کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کرنے کی کوشش کرنے کے الزام میں کرناٹک کے بی جے پی لیڈر روی پاٹل اور دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق مذکورہ ایف آئی آر کے علاوہ بھی ایس آئی آر میں گڑبڑی سے متعلق کم از کم 2 ایف آئی آر درج کی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک میسورو میں مقامی بی جے پی لیڈروں اور دیگر کے خلاف درج کی گئی ہے، جس میں شکایت کنندہ نے الزام لگایا ہے کہ ایس آئی آر کے دوران اس کے، اس کے خاندان اور ’مسلم طبقے‘ کے دیگر افراد کے ووٹ حذف کرنے کی سازش رچی گئی۔ اس کوشش سے مسلم طبقہ کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی اور معاشرے میں بدامنی بھی پیدا ہوئی۔ شکایت کنندہ کا کہنا ہے کہ پاٹل کے خلاف بیلگاوی مارکیٹ پولیس اسٹیشن میں 30 ستمبر کو میراسب سنادی کی شکایت پر معاملہ درج کیا گیا۔ سنادی بیلگاوی شمال اسمبلی حلقہ کے وارڈ نمبر 12 میں بوتھ لیول ایجنٹ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ووٹ چوری: کرناٹک میں پہلے سے بھرے ہوئے فارم-7 کی ویڈیو آئی سامنے، مسلم ووٹرز نشانے پر، کانگریس حملہ آورایف آئی آر کے مطابق شکایت کنندہ نے الزام لگایا کہ جب وہ حال ہی میں الیکشن کمیشن کی جانب سے کی جانے والی ووٹر لسٹ کی ایس آئی آر کے عمل میں بی ایل او کی مدد کر رہے تھے اور ووٹرز کی معلومات کی تصدیق میں معاونت کر رہے تھے، تو 22 ستمبر کو دوپہر تقریباً 2.30 بجے ملزم پاٹل، شنکر بیراپا نائک اور پرشانت دیپک منڈین منی 20 سے 25 دیگر افراد کے ساتھ مبینہ طور پر بدنیتی سے ایک ساتھ آئے اور صرف مسلم طبقہ کے ووٹرز کو نشانہ بنانے کی سازش رچی۔ انہوں نے ووٹر لسٹ سے 198 ووٹرز کے نام حذف کرنے کی سازش کی اور جعلی دستاویزات بنا کر بی ایل او کے حوالے کیے۔ انہوں نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ یہ دستاویزات اصلی ہیں اور ای آر او کی جانب سے جاری کیے گئے ہیں۔اس سے قبل الیکشن کمیشن نے ووٹر لسٹ میں جعل سازی کے سلسلے میں اپنی ہدایات تمام ضلع الیکٹورل افسران، الیکشن رجسٹریشن افسران (ای آر او) اور متعلقہ حکام کو خط جاری کر دیے تھے۔ اسی طرح کی ہدایات ان تمام ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں میں بھی جاری کی جائیں گی، جہاں ایس آئی آر کا عمل مکمل ہو چکا ہے یا جاری ہے۔