کیرلم کے وزیر داخلہ رمیش چنی تھلا نے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار سے متعلق ایک پرانے معاملے میں ویجیلنس جانچ کا حکم دیا ہے۔ دراصل یہ معاملہ 2006 کا ہے۔ اس وقت گیانیش کمار ریاست کے پبلک ورکس ڈپارٹمنٹ (پی ڈبلیو ڈی) کے سکریٹری تھے۔ ان پر سرکاری کاموں کے ٹھیکے دینے میں مبینہ بے ضابطگیوں کے الزامات لگے تھے۔Keralam Home Minister Ramesh Chennithala orders Vigilance probe against Gyanesh Kumar over 2006 caseRead @ANI Story | https://t.co/zQ0oJKD1g5#RameshChennithala #Keralam #CECGyaneshKumar #LeeSeeBeen #VigilanceProbe pic.twitter.com/QjXt4NRAvX— ANI Digital (@ani_digital) October 4, 2026کیرلم کے وزیر داخلہ نے ویجیلنس ڈائریکٹر کو پورے معاملے کی جانچ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ جانچ میں گیانیش کمار سے متعلق الزامات کے ساتھ بیرونی دباؤ کے الزامات کو بھی دیکھا جائے گا۔ جانچ کے بعد سامنے آنے والے حقائق کی بنیاد پر آگے کی کارروائی کی جائے گی۔ واضح رہے کہ یہ معاملہ ملائیشیا کے سول انجینئر لی سی بین کی خودکشی سے بھی جڑا ہے۔ وہ پی اے ٹی آئی-بی ای ایل کنسورشیم سے وابستہ تھے۔ یہ کنسورشیم کیرل اسٹیٹ ٹرانسپورٹ پروجیکٹ کے تحت ایم سی روڈ کو اپ گریڈ کرنے کے کام میں شامل تھا۔ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق 2006 میں لی سی بین نے خودکشی کر لی تھی۔ ان کے خودکشی نوٹ میں گیانیش کمار کا نام ہونے کی بات کہی گئی تھی۔ اس وقت گیانیش کمار پی ڈبلیو ڈی سکریٹری کے عہدے پر تھے۔ شکایت میں گیانیش کمار پر سرکاری کاموں کے ٹھیکے دینے میں بے ضابطگی کا الزام لگایا گیا ہے۔ شکایت کنندہ ملائینکیژو وینوگوپال نے ان تمام الزامات کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا الزام ہے کہ معاملے میں بیرونی اور سیاسی اثر و رسوخ کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسی اثر و رسوخ کے باعث گیانیش کمار جانچ سے بچ گئے۔قابل ذکر ہے کہ اس معاملے میں ویجیلنس پہلے بھی جانچ کر چکی ہے۔ شکایت کنندہ کا الزام ہے کہ اس وقت کی جانچ اچانک بند کر دی گئی تھی۔ معاملے کی جانچ کو متاثر کیا گیا۔ اب شکایت ملنے کے بعد وزیر داخلہ نے ویجیلنس ڈائریکٹر کو دوبارہ جانچ کی ہدایت دی ہے۔ جانچ میں پرانے الزامات کے ساتھ پہلے ہوئی جانچ کی صورتحال کو بھی دیکھا جائے گا۔ وزیر داخلہ رمیش چنی تھلا نے ویجیلنس ڈائریکٹر سے معاملے کی مکمل جانچ کرنے کو کہا ہے۔ اس میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات کی جانچ ہوگی۔ فی الحال یہ تمام الزامات جانچ کے دائرے میں ہیں۔ ویجیلنس کی جانچ کے بعد ہی معاملے میں آگے کی کارروائی طے کی جائے گی۔