مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران برطانیہ میں ڈیزل کی قیمتیں ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں۔برطانیہ کے وزیرِ ٹرانسپورٹ کیئر میتھر نے جمعہ کو کہا کہ عالمی سطح پر ایندھن کی فراہمی کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات اور قیمتوں میں ریکارڈ اضافے کے باوجود ملک میں ڈیزل کی فراہمی کا نظام "مضبوط” اور "لچکدار” (یعنی بحران کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والا) ہے۔امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازع کے باعث عالمی توانائی کی منڈیوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے دوران برطانیہ میں ڈیزل کی اوسط قیمت 2 پاؤنڈ (تقریباً 2.7 ڈالر) فی لیٹر تک پہنچ گئی۔میتھر نے ‘اسکائی نیوز’ کو بتایا، "میں آج صبح عوام کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ جب ڈیزل کی فراہمی کی بات آتی ہے تو برطانیہ کے پاس ذرائع کا ایک متنوع سلسلہ موجود ہے۔”انہوں نے مزید کہا، "اسی وجہ سے ہمارے نظام میں بحران کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت (لچک) موجود ہے۔” انہوں نے بتایا کہ برطانیہ ڈیزل کی فراہمی کو برقرار رکھنے کے لیے امریکہ، انٹرنیشنل انرجی ایجنسی اور یورپی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ڈیزل فراہمی سے متعلق پیوٹن کا بڑا اعلانجی سیونترقی یافتہ ممالک کے گروپ جی سیون کے اراکین اضافی ذخائر سے 10 کروڑ بیرل تیل اور ڈیزل جاری کرنے پر متفق ہوگئے۔یہ فیصلہ امریکا کی جانب سے یورپی ممالک پر اپنے ڈیزل ذخائر مارکیٹ میں لانے کے لیے دباؤ ڈالے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ایران جنگ کے باعث امریکی دباؤ کے بعد ایندھن کی بڑھتی عالمی قیمتوں پر قابو پانے کی کوشش میں جی سیون ممالک نے بڑا فیصلہ کرلیا۔رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق جی سیون ممالک نے اضافی ذخائر سے مجموعی طور پر 10 کروڑ بیرل خام تیل اور ڈیزل جاری کرنے پر اتفاق کرلیا، جس کا مقصد ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی ایندھن کی قیمتوں کو قابو کرنے میں مدد دینا ہے۔رپورٹ کے مطابق جی سیون کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ رکن ممالک بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) کے ذریعے پہلے سے کیے گئے وعدوں کو مدنظر رکھتے ہوئے 10 کروڑ بیرل کے اجرا کا عمل شروع کریں گے جس کے چار ماہ تک جاری رہنے کی توقع ہے۔برطانیہ میں ڈیزل کی قیمت نے مہنگائی کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا