نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما جے رام رمیش نے کہا ہے کہ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کے ذریعے ملک میں بڑے پیمانے پر ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے خارج کیے گئے ہیں اور اس کے نتیجے میں 31 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹروں کی مجموعی تعداد تقریباً 2015 کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔جے رام رمیش نے ایکس پر ایک پوسٹ میں ایک مضمون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایس آئی آر شروع ہونے سے پہلے 31 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ووٹروں کی تعداد تقریباً 95 کروڑ تھی، جو ڈرافٹ ووٹر فہرستوں میں ناموں کے اخراج کے بعد کم ہو کر 81.8 کروڑ رہ گئی ہے۔ ان کے مطابق 2015 میں انہی علاقوں میں ووٹروں کی تعداد 81.7 کروڑ تھی۔جے رام رمیش نے کہا کہ یہ تبدیلی ایس آئی آر کے ڈرافٹ مرحلے میں 13 کروڑ سے زیادہ ووٹروں کے نام خارج کیے جانے کے نتیجے میں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خارج کیے گئے ناموں کی اصل تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، کیونکہ 14 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر کا عمل ابھی جاری ہے۔جے رام رمیش نے مہاراشٹر کے اعداد و شمار کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق 2024 کے لوک سبھا انتخابات اور ایس آئی آر شروع ہونے سے پہلے مہاراشٹر میں ووٹروں کی تعداد میں 5.6 فیصد اضافہ ہوا تھا، لیکن ایس آئی آر کے بعد ووٹروں کی تعداد میں 21 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔انہوں نے دہلی کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایس آئی آر کے بعد وہاں ووٹروں کی تعداد 2014 کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 16 فیصد کم ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی فہرستوں سے ووٹروں کے ناموں کا اس بڑے پیمانے پر اخراج انتخابی حقوق سے محرومی کا باعث بن سکتا ہے۔ انہوں نے ایس آئی آر کو ’ماس ڈس انفرا نچائزمنٹ‘ یعنی بڑے پیمانے پر ووٹ کے حق سے محرومی قرار دیا۔انہوں نے اپنی پوسٹ میں الیکشن کمیشن اور بی جے پی پر انتخابی نظام پر اثرانداز ہونے کا الزام بھی عائد کیا۔ جے رام رمیش نے کہا کہ ایسے اقدامات کو برقرار رہنے نہیں دیا جا سکتا اور کانگریس اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کرے گی کہ جن ووٹروں کے نام غلط طریقے سے خارج کیے گئے ہیں، انہیں دوبارہ ووٹر فہرست میں شامل کیا جائے۔دوسری جانب، رمیش کی جانب سے شیئر کیے گئے تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ 31 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں ایس آئی آر کے مختلف مراحل کے دوران بڑی تعداد میں نام ڈرافٹ فہرستوں سے خارج کیے گئے۔ تجزیے میں مہاراشٹر، گجرات، تمل ناڈو، چندی گڑھ، اتراکھنڈ اور دہلی سمیت مختلف علاقوں کے اعداد و شمار کا تقابلی جائزہ لیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق مختلف ریاستوں میں ایس آئی آر سے پہلے اور بعد ووٹرز کی تعداد میں تبدیلی یکساں نہیں رہی۔ بعض ریاستوں میں ووٹر تعداد میں اضافے کے باوجود ڈرافٹ فہرست میں بڑی تعداد میں نام شامل نہیں تھے، جبکہ کچھ ریاستوں میں مجموعی ووٹر تعداد میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی۔Shah Instigated Removal (SIR) के जरिए Mass Disenfranchisement Of Indians (MODI) भारत के मतदाताओं की संख्या को कम कर रहा है।एक प्रमुख बिजनेस दैनिक में प्रकाशित विश्लेषण के मुताबिक, SIR ने भारत के मतदाताओं की संख्या को घटाकर 2015 के स्तर पर पहुंचा दिया है। 31 राज्यों और केंद्र… pic.twitter.com/4opQWLYapN— Jairam Ramesh (@Jairam_Ramesh) October 2, 2026رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ اعداد و شمار ڈرافٹ انتخابی فہرستوں سے متعلق ہیں اور مختلف ریاستوں میں ایس آئی آر کے لیے حوالہ جاتی تاریخیں الگ الگ رہی ہیں۔ اس لیے ڈرافٹ فہرست میں ناموں کے اخراج اور حتمی ووٹر فہرست میں موجود ووٹروں کی تعداد کو ایک ہی چیز نہیں سمجھا جا سکتا۔جے رام رمیش نے تاہم اس تجزیے کو ایس آئی آر کے اثرات کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی فہرستوں سے غلط طریقے سے خارج کیے گئے ووٹروں کے نام دوبارہ شامل کیے جانے چاہئیں۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب مختلف ریاستوں میں ایس آئی آر کے تحت انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کا عمل جاری ہے۔