لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد اور کانگریس رہنما راہل گاندھی نے بہار میں سیلاب کی خوفناک صورتحال کو لے کر مرکز اور ریاست کی بی جے پی کی ڈبل انجن حکومت پر سخت حملہ بولا ہے۔ راہل گاندھی نے اتوار (4 اکتوبر) کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’بہار میں سیلاب ایک بار پھر قہر بن کر ٹوٹا ہے۔ لاکھوں لوگ متاثر ہیں، سینکڑوں گاؤں ڈوبے ہوئے ہیں۔ کئی لوگوں کی موت اور لاپتہ ہونے کی خبر ہے۔ جن خاندانوں نے اپنوں کو کھویا ہے، ان کے تئیں میری گہری تعزیت ہے۔‘‘बिहार में बाढ़ फिर कहर बनकर टूटी है। लाखों लोग प्रभावित हैं, सैकड़ों गांव डूबे हुए हैं। कई लोगों की मौत और लापता होने की खबर है। जिन परिवारों ने अपनों को खोया है, उनके प्रति मेरी गहरी संवेदना है।सबसे दुखद बात यह है कि बिहार में यह संकट नया नहीं है। हर साल बाढ़ आती है, मौतें…— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) October 4, 2026راہل گاندھی نے اپنی ’ایکس‘ پوسٹ پر مزید لکھا کہ ’’سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ بہار میں یہ بحران نیا نہیں ہے۔ ہر سال سیلاب آتا ہے، اموات ہوتی ہیں، خاندان برباد ہوتے ہیں اور لوگ نقل مکانی کرتے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ ’’بی جے پی کی ڈبل انجن حکومت بتائے کہ گزشتہ 17 سال میں اس سالانہ سانحے سے نمٹنے کے لیے کیا کیا؟ زمینی سطح پر کیا بدلا؟ بہار کے لوگوں کو ہر سال راحت اور یقین دہانی نہیں، مستقل حل چاہیے۔‘‘دوسری جانب پورنیہ سے آزاد رکن پارلیمنٹ پپو یادو نے پٹنہ میں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں 3 دن سے چھپرہ میں ہوں، مجھے یہاں 50 سے زیادہ جنریٹر لگانے پڑے ہیں۔ رکن پارلیمنٹ اور اراکین اسمبلی کہاں ہیں؟ مرکز کو تو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ چھپرہ میں 17 اور 20 کے بعد کئی زیادہ خوفناک صورتحال رہی ہے۔ یہاں 2-2 کروڑ روپے کے گھر منہدم ہو گئے ہیں، گزشتہ 5 دن سے لوگ یہاں بھوکے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انہوں ںے کہا کہ ’’کیوں سب بہاریوں سے نفرت کرتے ہیں؟ آسام میں سیلاب آیا تھا اور وہاں سبھی لوگوں نے مدد کی تھی، بہار کی مدد کیوں نہیں کی گئی؟ پٹنہ اور دہلی کو تو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ چھپرہ ڈوب گیا ہے۔ یہ آبی قیامت ہے۔‘‘#WATCH पटना, बिहार: पूर्णिया से निर्दलीय सांसद पप्पू यादव ने कहा, "... मैं 3 दिनों से छपरा में हूं... मुझे यहां 50 से ऊपर जनरेटर लगाने पड़े हैं। सांसद और विधायक कहां हैं? केंद्र को पता ही नहीं है कि छपरा में 17 और 20 के बाद कई अधिक भयावह स्थिति रही है... यहां 2-2 करोड़ के घर गिरे… pic.twitter.com/LJrM7pqbgH— ANI_HindiNews (@AHindinews) October 4, 2026قابل ذکر ہے کہ اپوزیشن مسلسل بہار حکومت اور مرکزی حکومت سے سیلاب سے نمٹنے کے انتظامات کو لے کر سوال کر رہی ہے۔ بہار میں کوسی، گنڈک اور باگمتی ندیوں میں طغیانی کے باعث سپول، سہرسہ، دربھنگہ، مظفرپور سمیت کئی اضلاع میں صورت حال سنگین بنی ہوئی ہے۔ بہار میں رواں سال مانسون کے بعد نیپال سے چھوڑے گئے پانی کی وجہ سے سیلاب کی صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔